شہلا رضا 11

پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے معاملے پر ماورائے آئین کوئی کام نہیں ہونے دیگی’ شہلا رضا

لاہور(رپورٹنگ آن لائن )پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما و رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر ماورائے آئین کوئی کام نہیں ہونے دیں گے،صوبہ پنجاب کے لوگ جب محنت کرنے بلوچستان جاتے ہیں اور وہاں سے لاشیں آتی ہیں تو ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے،ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے جب روز کراچی کو برا کہا جاتا ہے اور جنوبی پنجاب سے لوگ چھوٹی چھوٹی مزدوریوں کے لیے کراچی منتقل ہوتے ہیں، کراچی کو برا بھی کہتے ہیں اور پشاور سے زیادہ پشتون کراچی میں رہتے ہیں، ایک سندھ ہی تو ہے جس کا صوبائی دارالحکومت سب کو پال رہا ہے۔

ایک انٹر ویو میں انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری کے دروہ یورپ اور لندن اور وہاں سیاسی رہنمائوں کی ملاقاتوں سے متعلق سوال پر کہا کہ سیاسی لوگوں کا آپس میں ملاقاتیں کرنا بہت ہی اچھی بات ہے،لندن ملاقاتوں میں کیا طے پایا، وہاں لوگوں کے درمیان کیا باتیں ہوئیں، اس بارے میں معلوم نہیں لیکن سیاسی قیادت کا آپس میں ملنا بہت اچھی بات ہے، بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں۔انہوںنے کہا کہ ہم نے اپنے شہیدوں کو ضمانت دی ہے کہ جب تک ہم زندہ ہیں اِس آئین کو بہتر سے بہتر کریں گے اور ترمیم بھی وہ لائیں گے جس میں دو تہائی اکثریت ہو، اگر غلط لوگوں کے ہاتھ میں دو تہائی اکثریت دی گئی تو ایسی صورت میں بھی ہم ثابت قدم رہ کر مقابلہ کریں گے۔شہلا رضا نے کہاکہ ہر شخص کا حق ہے وہ اپنی رائے رکھے، خواجہ آصف ہائبرڈ نظام کے حامی ہیں، احسن اقبال کے بیانات اور طرح کے ہیں لیکن وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا بیان پیپلز پارٹی کے موقف سے زیادہ قریب ہے،(ن)لیگ کو وِکٹ کے چاروں طرف نہیں کھیلنا چاہیے۔

مسلم لیگ (ن)کو واضح پیغام دینا چاہیے کہ آیا وہ آئینی طریقہ کار کے ساتھ ہے، اور اگر محسن نقوی کوئی اور پیغام لے کر آ رہے ہیں تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ آیا وہ مسلم لیگ (ن)کا پیغام ہے یا کسی اور کا، پیپلز پارٹی کا پیغام آئین کے ساتھ ہے۔انہوںنے کہا کہ مریم نواز کو وزارتِ اعلی جہیز میں ملی ہے، ان کے لیے اتنا کافی ہے کہ روزانہ تیار ہو کر کسی منصوبے کا افتتاح کر دیں وہ پورا ہو یا نہ ہو،ان کے لئے اتنا کافی ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارتی ہاتھ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،مریم نواز کو سیاسی سمجھ بوجھ کی کمی ہے انہیں پڑھنا اور ایسے موضوعات کی طرف دھیان دینا چاہیے۔ مریم نواز کے ساتھ پرویز رشید جیسے بہت سینئر لوگ ہیں اور ان کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ ٹیوشن لے لیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں