کراچی(رپورٹنگ آن لائن) ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 15 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم بچوں کی اموات محض ایک حادثہ نہیں بلکہ وفاقی نظامِ صحت کی سنگین ناکامی اور انتظامی غفلت کا معاملہ ہے، وفاقی وزیر صحت کو اس ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
اپنے بیان میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ پمز اسپتال میں 15 معصوم بچوں کی جانیں چلی جانا انتہائی افسوسناک اور دلخراش سانحہ ہے۔ جن والدین نے اپنے نومولود بچوں کو کھویا ہے، ان کے دکھ کا مداوا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پمز جیسے بڑے سرکاری اسپتال میں پیش آنے والے واقعے نے اسپتال کے انتظامی اور حفاظتی نظام پر کئی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق آتشزدگی کے وقت نرسری میں نہ کوئی نرس موجود تھی، نہ ڈاکٹر اور نہ ہی متعلقہ عملہ، جو انتہائی تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے سرکاری اسپتال میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بنیادی انتظامات کیوں موجود نہیں تھے اور نومولود بچوں کی بروقت جان بچانے کی کوششیں کیوں مؤثر ثابت نہ ہوسکیں۔
سعدیہ جاوید نے کہا کہ پمز اور پولی کلینک وفاقی وزارت صحت کے ماتحت اہم سرکاری اسپتال ہیں، اگر ان اداروں میں بھی مریضوں خصوصاً نومولود بچوں کے تحفظ کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے جاسکتے تو وفاقی وزارت صحت کی کارکردگی پر سوالات اٹھنا فطری امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پمز کو اربوں روپے کا بجٹ فراہم کیا جاتا ہے، اس کے باوجود بنیادی حفاظتی انتظامات میں خامیاں سامنے آنا انتہائی افسوسناک ہے۔انہوں نے وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال سے مطالبہ کیا کہ وہ پمز سانحے کی اخلاقی اور انتظامی ذمہ داری قبول کریں اور واقعے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ وزیراعظم کو بھی واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے وفاقی نظام صحت کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے۔
اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور مریضوں کے تحفظ کے نظام کو مؤثر بنانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔سعدیہ جاوید نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں خصوصاً نرسریوں اور انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں حفاظتی انتظامات کا فوری آڈٹ کرایا جائے اور جہاں بھی خامیاں موجود ہوں انہیں ہنگامی بنیادوں پر دور کیا جائے، تاکہ کسی اور والدین کو اپنے نومولود بچے سے اس طرح محروم نہ ہونا پڑے۔









