حافظ نعیم الرحمن 11

وزیراعظم وعدہ پورا کریں ورنہ ملتان سے دوبارہ لانگ مارچ شروع کریں گے، حافظ نعیم الرحمن

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ فیول ریلیف پیکیج مسئلے کا حل نہیں، اصل حل پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے، وزیراعظم شہباز شریف اپنا وعدہ پورا کریں ورنہ جماعت اسلامی دوبارہ ملتان سے لانگ مارچ شروع کردے گی، 7 اکتوبر کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ادارہ نورحق کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا سے ٹیلی فونک رابطے کے دوران یقین دہانی کرائی تھی کہ وطن واپسی پر وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی کے معاملے کو دیکھیں گے،

جس کے بعد جماعت اسلامی نے لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وزیراعظم کو اب اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے، بصورت دیگر ملتان سے دوبارہ لانگ مارچ شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف پیکیج کو بڑا ریلیف قرار دے رہی ہے، تاہم یہ ریلیف بھی سب کو نہیں مل رہا اور صرف 20 سے 25 فیصد افراد اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ موٹر سائیکلیں اور 40 لاکھ سے زائد گاڑیاں ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت پہلے ریلیف دینے کے موڈ میں نہیں تھی، تاہم احتجاج اور دھرنے شروع ہونے کے بعد حکومت اس جانب آئی۔ اپوزیشن جماعتیں بھی عوامی حقوق کی بات نہیں کر رہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں کیلئے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اصل ریلیف پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے اور جماعت اسلامی نے یہ بھی بتایا ہے کہ لیوی ختم کرنے کیلئے وسائل کیسے پورے کیے جاسکتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک دن کیلئے بھی اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوئی۔ حکومت کو یہ بھتہ ختم کرنا ہوگا اور ہم کسی بھی وقت دوبارہ ملتان سے لانگ مارچ شروع کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم کو اپنا وعدہ پورا کرکے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے 7 اکتوبر تک کا وقت اہل غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے مختص کیا ہے،

اس کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، بعد ازاں حکومت کو جماعت اسلامی سے شکایت نہیں ہونی چاہیے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ لانگ مارچ اور احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق اور جمہوری عمل کا حصہ ہے، حکومت کو پرامن احتجاج سے نہیں روکنا چاہیے۔ حکومت کا یہ کہنا کہ مذاکرات نہیں کیے جائیں گے، درست نہیں، مذاکرات دوبارہ ہونے چاہئیں۔انہوں نے اپوزیشن سے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اور بزرگ قیدیوں کو رہا کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی لیڈر کو اسپتال تک رسائی دینے کا مطالبہ بھی جائز ہے جبکہ گورنر راج کسی مسئلے کا حل نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں