لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی مسلسل عوام کے حقوق کے لیے میدان عمل میں موجود ہے، گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے دھرنوں، احتجاجی سرگرمیوں اور لانگ مارچ کے ذریعے عوام کی آواز حکمرانوں تک پہنچائی جا رہی ہے، وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد حکومت کو چاہیے کہ قوم سے کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے اور پٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ کرے، عوام پہلے ہی مہنگائی کے ناقابل برداشت بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، مزید ٹیکس اور لیوی کسی صورت قبول نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف پروگرامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ رابطہ عوام مہم اور دستخطی مہم بھرپور انداز میں جاری ہے، جس میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہو رہی ہے۔ جماعت اسلامی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کے مسائل کو ہر فورم پر اجاگر کرے گی۔ انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ جماعت اسلامی کا پیغام ہر گھر تک پہنچائیں اور عوام کو ان کے بنیادی معاشی و جمہوری حقوق کے لیے منظم کریں۔ حکومت اگر حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے فوری طور پر پٹرولیم لیوی ختم، حکومتی غیرضروری اخراجات کم اور عوام دوست معاشی پالیسی نافذ کرنا ہوگی۔
محمد جاوید قصوری نے کہا کہ پاکستان اس وقت مہنگائی، بے روزگاری، کمزور قوتِ خرید، توانائی کے بلند نرخوں، بڑھتے ہوئے حکومتی قرضوں اور نوجوانوں کی بیرونِ ملک منتقلی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ہر سال بڑی تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑ رہے ہیں۔ یہ صورتحال حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ حکومت کو محض قرضے لینے اور وقتی انتظامات کرنے کے بجائے پائیدار معاشی پالیسی، صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور عام آدمی کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔انہوں نے وفاقی وزارت خزانہ کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جون 2026ء تک پاکستان کے سرکاری قرضوں کا حجم 86 ہزار 700 ارب روپے تک پہنچ جانا حکمرانوں کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
جون 2016ء میں سرکاری قرضہ 19 ہزار 700 ارب روپے تھا، جو دس سال کے دوران تقریباً 340 فیصد اضافے کے بعد موجودہ سطح تک پہنچ گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکمران مسلسل قرضے حاصل کر رہے ہیں، لیکن ان قرضوں کا بوجھ عوام کی زندگی آسان بنانے کے بجائے مہنگائی، ٹیکسوں اور بجلی و پٹرول کی بلند قیمتوں کی صورت میں عام آدمی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔محمد جاوید قصوری نے مزید کہاکہ اشرافیہ کی مراعات اور حکومتی اخراجات میں کمی کے بجائے عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈالنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ قوم یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ اتنے بڑے قرضوں کے باوجود عوام کو بنیادی سہولیات، روزگار اور معاشی تحفظ کیوں نہیں مل رہا۔؟









