حافظ نعیم الرحمن 12

وزیراعظم نے عوام کو لیوی پر ریلیف نہ دیا تو پوری طاقت سے اسلام آباد جائیں گے’حافظ نعیم الرحمن

لاہور(رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے متعین ایجنڈے پر ملاقات ہوگی، پٹرولیم لیوی کا خاتمہ نہ ہوا تو نومبر کے وسط میں پوری طاقت سے اسلام آباد مارچ کا آغاز ہوجائے گا، عوام اور کارکن تبار ہیں،ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں اضافہ عدالتی نظام کی تباہی کا ثبوت ہیں۔منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام شدید غصہ میں ہیں، اس سے پہلے کہ لاوا پھٹ جائے اور حالات کسی کے کنٹرول میں نہ رہیں لوگوں کو ریلیف دیا جائے۔

نائب امراء لیاقت بلوچ، ڈاکٹر اسامہ رضی، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں ماورائے عدالت قتل کے بڑھتے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عدالتی نظام تباہ ہوگیا ہے، ماورائے عدالت قتل کے واقعات عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے کرائے جارہے ہیں، تاہم ان سے یہ تاثر مزید تقویت پکڑ چکا ہے کہ ریاست کی رِٹ ختم ہوگئی ہے، طاقتور مجرموں کو کوئی پوچھنے والا نہیں،اصل مجرم پورے نظام پر مسلط ہیں، مافیاز کا کنٹرول ہے، عدالتوں میں تئیس لاکھ مقدمات زیرالتوا ہیں، حکمرانوں نے چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم سے عدالتوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات آئندہ دوتین روز میں ہوجائے گی، ملاقات ہو یا نہ ہو اصل مقصد عوام کو ریلیف دلانا ہے، جماعت اسلامی اس کے لیے لمبے عرصے سے جدوجہد کررہی ہے، حکمران ہوش کے ناخن لیں، کیا وہ چاہتے ہیں کہ عوام پارلیمنٹ کا گھیراؤ کریں تب ہی انہیں ریلیف دیں گے؟ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ وزیراعظم نے لیوی ختم نہ کی تو دوبارہ کوئی ملاقات نہیں ہوگی، جماعت اسلامی کے تمام اضلاع میں انتخابات ہورہے ہیں، یکم نومبر تک نئے منتخب لوگ اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے، اس کے بعد مارچ کی بھرپور تیاری کا آغاز ہوجائے گا اور پھر فیصلے سڑکوں پر ہی ہوں گے۔ بطور سیاسی جماعت بہت ذمہ داری کا ثبوت دیا اور صبر کیا اب وقت آگیا ہے کہ ہم سخت حکمت عملی اپنائیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکمران اپنی عیاشیاں اور مراعات کم کریں۔ موجودہ بدترین حالات میں بھی ریفائینریز کے منافع میں ایک سال میں ایک ہزار سے گیارہ سو فیصد تک اضافے ہورہے ہیں، تیل کی مارکیٹنگ کمپنیاں بھی اربوں کما رہی ہیں، آئی پی پیز کو اربوں کی ادائیگیاں ہورہی ہیں، لیکن عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے، حکمران ریفائینریز کو پوری صلاحیت کے مطابق چلائیں، شرح سود کم کریں، مختلف مافیاز کی صورت مسلط چند ہزار افراد کو نوازنے کی بجائے عوام کو فائدہ دیا جائے، حکومت ہمیں یہ نہ بتائے کہ بجٹ میں مارجن نہیں ہے یا آئی ائم ایف کا دباؤ ہے۔ خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی لگا کر کہاں سے ایک سو ساٹھ ارب کا مارجن نکالا گیا، آئی ایم ایف معاہدہ میں لیوی ختم نہ کرنے کا نہیں کہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا پٹرول پر جاری ریلیف ناکافی ہے، ڈیڑھ کروڑ موٹر سائیکل، لاکھوں گاڑیاں، پبلک ٹرانپسورٹ اس پیکج میں کور نہیں ہورہیں۔

عوام کا مہنگائی سے برا حال ہے، آٹا سات ہزار روپے من سے اوپر چلا گیا، کسان سے گندم پنتیس سو روپے من کے حساب سے خریدی گئی، اب آٹا دوگنی قیمت پر فروخت ہورہا ہے، چھوٹا کسان برباد ہوگیا، زراعت تباہ ہورہی ہے، ڈی اے پی کھاد کی قیمت ساڑھے سترہ ہزار تک پہنچ گئی، مافیاز کا ایک دوسرے سے گٹھ جوڑ ہے، چند ہزار لوگوں کے فائدے کے لیے پچیس کروڑ عوام کو نقصان پہنچایا جارہا ہے، ملک میں بدترین سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ فلسطین کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ کے کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں بھی بدترین مظالم کا سلسلہ شروع کردیا ہے، اسرائیل میں الیکشن سے قبل نیتن یاہو نے ظلم کی تمام حدیں عبور کردی ہیں، ٹرمپ اسے مکمل مدد فراہم کررہا ہے، دونوں اپنے آپ کو ظالم اور نام نہاد جنگجو ثابت کرکے سیاسی فائدے لینا چاہتے ہیں۔ ان حالات میں اقوام متحدہ ہمیشہ کی طرح خاموش ہے، نام نہاد غزہ بورڈ کیا کررہا ہے؟

انہوں نے اسلامی ممالک کے حکمرانوں سے سوال کیا کہ وہ فلسطین کے لیے کیا کررہے ہیں؟ ۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اسلامی ممالک آپس کی لڑائیوں کی بجائے اتحاد و اتفاق پیدا کریں اور مظلوموں کی مدد کریں۔ انہوں نے سعودی عرب پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ جماعت اسلامی اس صورتحال میں اسلامی ممالک کے درمیان اشتعال پیدا کرنے کی بجائے بات چیت اور معاملہ فہمی سے حالات کو معمول پر لانے کی بات کرتی ہے، مکہ دفاعی معاہدے میں توسیع کرکے اس میں ایران کو بھی شامل کیا جائے، پاکستان اسلامی ممالک میں اتحادو اتفاق کے لیے کردار ادا کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں