ہائیکورٹ 15

نابالغ بچوں کے نان نفقہ کیلئے والد کی پنشن بھی منسلک ہوسکتی ہے’لاہور ہائیکورٹ

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے اہم قانونی نقطہ طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پنشنر والد کی پنشن سے نابالغ بچوں کا نان نفقہ ادا کیا جاسکتا ہے، جبکہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ نابالغ بچوں کا نان نفقہ عام قرض کی نوعیت کا مالی دعوی نہیں بلکہ والد پر عائد قانونی اور خاندانی ذمہ داری ہے، اس لیے پنشن کے تحفظ سے متعلق قانونی دفعات کو نابالغ بچوں کے حق میں جاری حتمی نان نفقہ کی ڈگری پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک جاوید اقبال وینس اور جسٹس ملک وقار حیدر اعوان پر مشتمل بنچ نے محمد لطیف کی آئینی درخواست مسترد کرتے ہوئے اہم فیصلہ جاری کیا، 8صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس وقار حیدر اعوان نے تحریری کیا۔درخواست گزار نے فیملی کورٹ جڑانوالہ کے 17 ستمبر 2019 کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں پنشن اکائونٹ میں موجود رقم کی اٹیچمنٹ ختم کرنے اور ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار کی سابق اہلیہ نے نکاح کے خاتمے اور جہیز کے سامان کی واپسی جبکہ نابالغ بچوں نے نان نفقہ کی وصولی کے لیے مقدمات دائر کیے تھے، دونوں مقدمات کو یکجا کرکے فیملی کورٹ نے 22 جنوری 2014 کو فیصلہ سناتے ہوئے والد کو دونوں بچوں کو فی کس ماہانہ تین ہزار روپے نان نفقہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، عدالت نے نان نفقہ کی رقم میں ہر سال دس فیصد اضافے کی بھی ہدایت کی تھی جبکہ سونے کے زیورات کے علاوہ 2 لاکھ 48 ہزار 570 روپے مالیت کے جہیز کے سامان کی واپسی کی ڈگری بھی جاری کی گئی۔

فیصلے کے خلاف دائر اپیلیں مسترد ہونے کے بعد ڈگری حتمی شکل اختیار کرگئی، بعد ازاں ڈگری ہولڈرز نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے رجوع کیا، جس پر فیملی کورٹ نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے اور درخواست گزار کے پنشن اکانٹ میں موجود رقم کو بھی اٹیچ کرنے کی کارروائی شروع کردی۔قانونی نکتہ یہ تھا کہ کیا ریٹائرڈ فوجی افسر کی پنشن کو نابالغ بچوں کے حق میں جاری حتمی نان نفقہ کی ڈگری پر عملدرآمد کے لیے منسلک کیا جاسکتا ہے، جبکہ پنشن ایکٹ 1871، پاکستان آرمی ایکٹ 1952 اور ضابطہ دیوانی کے تحت پنشن اور بعض فوجی واجبات کو اٹیچمنٹ سے تحفظ حاصل ہے؟۔لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کا سیکشن 13 فیملی کورٹ کی ڈگری پر عملدرآمد کے لیے خصوصی طریقہ کار فراہم کرتا ہے، رقم سے متعلق ڈگری کی صورت میں مقررہ مدت کے اندر ادائیگی نہ ہونے پر قانون کے مطابق ڈگری کی رقم کی وصولی کا موثرطریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔

عدالت کے مطابق بچے کا نان نفقہ کسی شخص کو دئیے گئے قرض یا ادھار رقم کی واپسی کا دعوی نہیں، بلکہ والد اور بچے کے رشتے سے پیدا ہونے والی قانونی ذمہ داری ہے، فیملی کورٹ کی ڈگری اس پہلے سے موجود ذمہ داری کو متعین کرکے اس کے نفاذ کا ذریعہ بنتی ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے اسلامی اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے سور البقرہ کی آیت 233 کا ذکر بھی کیا، جس کے مطابق والد پر اپنی استطاعت کے مطابق اولاد کے کھانے اور لباس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان نفقہ حاصل کرنے کا حق اور والد کی یہ ذمہ داری اسلامی اصولوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی قانونی نظام میں بھی تسلیم شدہ ہے۔عدالت کا حتمی قانونی اصول قرار دیا گیا کہ پنشن ایکٹ 1871 کا سیکشن 11 نابالغ بچوں کے حق میں فیملی کورٹ کی حتمی نان نفقہ ڈگری پر اس انداز میں لاگو نہیں ہوتا کہ ڈگری پر عملدرآمد ہی ناممکن ہوجائے۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ صرف پنشنر ہونے کی بنیاد پر کوئی شخص نابالغ بچوں کے حق میں جاری حتمی نان نفقہ کی ڈگری سے استثنی حاصل نہیں کرسکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں