قمر زمان کائرہ 181

ن لیگ آئین کی حکمرانی چاہتی ہے تو بیک ڈور رابطے بند کرے، قمر زمان کائرہ

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما و سیکرٹری اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ عالمی دنیا میں تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں جبکہ پاکستان میں نااہل حکمرانوں نے پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے، بھارت میں تیل اور ڈیزل کی قیمت میں 10روپے کی کمی کی ہے، ڈالر 175روپے کا ہونے کے بعد عوام کو فی لیٹر3 سے 4روپے فی لیٹر ملنا چاہیے تھا لیکن حکمرانوں نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ وہ عوام کے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑیں گے، مسلم لیگ نون ایک طرف ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتی ہے دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ درپردہ رابطے میں ہے،جب تک پی ڈی ایم میں پیپلز پارٹی اور اے این پی موجود تھیں تو موجودہ حکمرانوں کی ٹانگیں لڑکھڑا رہی تھیں لیکن جان بوجھ کرپی ڈی ایم سے پیپلز پارٹی اور اے این پی کو نکالا گیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں حلقہ این اے 131میں پیپلزپارٹی کے امیدوار اسلم گل کے انتخابی مہم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما و سیکرٹری اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکمرانوں نے عجیب منطق نکالی ہے اور جھوٹ پر جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ چینی اور آٹا اس لئے مہنگا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں ان کی قیمتیں زیادہ ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ چینی اور آٹا پاکستان میں کہیں اور سے نہیں آتا بلکہ چینی پاکستانی ملیں بناتی ہیں اور زراعت سے گندم ملتی ہے،اس وقت کرشنگ سیزن تو نہیں ہے لیکن گزشتہ سال چینی کی وافر مقدار پاکستان کے اندر موجود تھی اسے کس نے بیرون ملک بھجوایا یا اسے کس نے چھپا دیا، چینی کی قیمتیں فی الفور 74روپے فی کلو کے حساب سے مارکیٹ میں لائی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ اس سال گندم وافر مقدار میں پیدا ہوئی ہے تو پھر آٹا عوام کو کیوں نہیں مل رہا، کیوں نایاب ہے۔ قمر الزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے طے کر رکھا ہے کہ عوام کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیں گے، ایک دن تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے دوسری دن بجلی اور تیسرے دن گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا جاتا ہے، اس وقت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں جبکہ ڈالر 175روپے کا ہونے کے بعد تیل فی لیٹر 3 سے 4 روپے کم ہونا چاہیے تھا لیکن نااہل حکمرانوں نے مہنگائی کا طوفان کھڑا کر رکھا ہے،وزیراعظم اپنی تقریر میں کہتے ہیں کہ انڈیا میں پاکستان سے تیل کی قیمتیں زیادہ ہیں، حالانکہ گزشتہ دنوں انڈیا میں تیل کی قیمتیں فی لیٹر10روپے کم ہوئی ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ نون پر طنز کے تیر چلاتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ حکومت سے اندرون خانہ ملے ہوئے ہیں،جب پیپلز پارٹی کی قیادت نے کہا کہ ہم پنجاب میں تحریک عدم اعتماد لاتے ہیں جب پنجاب کی حکومت گر جائے گی تو مرکز میں بھی حکومت ختم ہو جائے گی لیکن میاں برادران کہتے ہیں کہ ہم کیوں حکومت ختم کریں، مسلم لیگی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ 2023کا الیکشن فری اور فیئر چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف نعرہ لگاتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو،ایک طرف وہ عوام کو نعرے میں الجھاتے ہیں تو دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اندرون خانہ رابطے میں رہتے ہیں،عوام کو عزت دو اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ 1966میں پیپلز پارٹی نے دیا تھا اسی وجہ سے جب بھی پیپلز پارٹی حکومت میں آئی انہوں نے عوام کی خدمت کی،پہلے مسلم لیگ یہ تو طے کرے کہ اس نے کرنا کیا ہے، مزاحمت کرنی ہے یا مفاہمت۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کہتا ہے کہ میرا ہوم ورک ہی نہیں تھااس لئے پہلے مجھے سمجھ ہی نہیں آئی اس لئے غلط فیصلے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جان کو مہنگائی سے چھڑوانا چاہتے ہیں تو اس کا حل یہ ہے کہ وہ فی الفور استعفیٰ دیں اور نئے الیکشن کرائیں۔ قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ تحریک انصاف نے حلقہ این اے 131 سے جان بوجھ کر فرار حاصل کیا،اب میں لاہوریوں سے کہوں گا کہ وہ اپنے ہی نمائندے اسلم گل کو بھاری اکثریت سے کامیاب کریں گے، پیپلز پارٹی بنیادی طور پرغریب عوام کی جماعت ہے،وزیراعظم مدینہ کی ریاست کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن عملی طور پر وہ اس کے خلاف جا رہے ہیں، ہم مسلمان ہیں اور ہم سب اپنے پیارے نبی سے محبت کرتے ہیں لیکن ہم نے اسلام کا نام لے کرووٹ کبھی نہیں مانگا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک پی ڈی ایم میں پیپلز پارٹی اور اے این پی موجود تھی تو ہر الیکشن پی ڈی ایم کی جماعتیں جیت رہی تھیں، وہ عام الیکشن ہو یا سینیٹ کا الیکشن حکومت گھبرا گئی تھی اور وزیراعظم منت ترلوں پر آ گئے تھے لیکن جان بوجھ کر حکومت کی مدت میں اضافہ کرنے کےلئے ان لوگوں نے پی ڈی ایم سے پیپلز پارٹی اور اے این پی کو نکالا جس کے بعد پی ڈی ایم کمزور اور حکومت مضبوط ہو گئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں