گوجرانوالہ( رپورٹنگ آن لائن)سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ معاہدہ اجتماعی دفاع کے ساتھ امن، استحکام اور وسیع تر معاشی و تکنیکی تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے،دفاعی صلاحیت کا مقصد جنگ نہیں بلکہ موثر دفاع اور امن کو یقینی بنانا ہے، جبکہ پاکستان کو اپنی اسٹرٹیجک شراکت داری کو معاشی ترقی، سرمایہ کاری، تجارت، ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون میں تبدیل کرنا ہوگا۔
گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں مکہ سے عالمی شراکت داری: سلامتی، معاشی ترقی اور مسلم دنیا میں پاکستان کا ابھرتا کردار کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی تعاون پر انحصار کے بجائے تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور ہنرمند افرادی قوت کے ذریعے اپنی قومی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی نے بھی واضح کیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور مقامی مہارت قومی سلامتی اور خود انحصاری کیلئے ناگزیر ہیں۔جامعات صرف ڈگریاں دینے کے مراکز نہیں بلکہ قومی قیادت، تحقیق اور عملی صلاحیتوں کی تیاری کے مراکز ہیں، ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ طلبہ کو عالمی حالات اور ان کے پاکستان کی معیشت، سلامتی اور معاشرے پر اثرات سے آگاہ ہونا چاہیے۔
نوجوانوں کو دورانِ تعلیم عملی تجربات، کاروباری مواقع اور عالمی اداروں سے روابط فراہم کرکے انہیں مستقبل کی معیشت کیلئے تیار کیا جا سکتا ہے۔سپیکر نے کہا کہ پاکستان کو طویل عرصے سے سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات، دہشت گردی اور تعلیمی و بنیادی ڈھانچے کے مسائل کا سامنا ہے، اس لیے قومی سلامتی کے ساتھ معاشی استحکام اور انسانی ترقی کو بھی ترجیح دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے عوام جنگ نہیں بلکہ امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں، جبکہ مضبوط دفاع اور سفارت کاری امن کے قیام میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تعاون کو دفاع سے آگے بڑھا کر جامعات، تحقیقی اداروں، صنعت اور کاروباری شعبے تک وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، صنعت اور ہنرمندی کے منصوبوں کے ذریعے عالمی شراکت داری کے ثمرات عام شہریوں، صنعتکاروں، برآمد کنندگان اور نوجوانوں تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔ سپیکر نے گفٹ یونیورسٹی کی جانب سے طلبہ کو عملی اور کاروباری تجربات فراہم کرنے کی کوششوں کو بھی سراہا۔









