خرم شہزاد 40

مالیاتی امور پر تبصرہ کیلئے حقائق اور تناظر اہمیت کے حامل ہیں ،مشیر خزانہ

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ مالیاتی امور پر تبصرہ کیلئے حقائق اور تناظر اہمیت کا حامل ہے ، ذمہ دارانہ مالیاتی تبصرے کے لیے دونوں عوامل ناگزیر ہیں ، ٹیکس شارٹ فال کے متعلق تبصرے گمراہ کن ہیں۔ گزشتہ روز سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ میں جاری مالی سال کے آغاز میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کے 14130 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کی بنیاد پر بار بار 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جو گمراہ کن تاثر ہے۔

خرم شہزاد نے کہا کہ ٹیکس اہداف مالی سال کے آغاز سے قبل متعدد معاشی مفروضات کی بنیاد پر مقرر کیے جاتے ہیں جن میں مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو، مہنگائی، متوقع درآمدات، بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اضافہ، شرح مبادلہ اور پالیسی ریٹ شامل ہوتے ہیں،معاشی حالات میں تبدیلی کے ساتھ ان مفروضات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جاتا ہے اور مالیاتی تخمینوں کو بھی اسی مناسبت سے ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔اسی تناظر میں ابتدائی ریونیو ہدف کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈکے ساتھ مشاورت کے بعد تقریباً 13000ارب روپے تک کم کیا گیا تاکہ بدلتے ہوئے معاشی حقائق کی عکاسی کی جا سکے۔

ان عوامل میں مہنگائی میں اتار چڑھا، شرح مبادلہ میں بہتری، شرح نمو کی بدلتی ہوئی صورتحال، اندرونی چیلنجز بشمول سیلاب، اور بین الاقوامی جغرافیائی سیاسی پیش رفت جیسے امریکا ۔ایران جنگ اور اس کے نتیجے میں توانائی و اجناس کی قیمتوں میں آنے والے جھٹکے شامل ہیں۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ اس نوعیت کی نظرثانیاں مالیاتی نظم و نسق کا معمول کا حصہ ہوتی ہیں اور ان کا مقصد ریونیو اور اخراجات کے تخمینوں کو موجودہ معاشی حالات کے مطابق ہم آہنگ رکھنا ہوتا ہے، اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر نے مئی میں 994 ارب روپے ٹیکس جمع کیا جو ماہانہ ہدف کا 97 فیصد ہے۔

مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران مجموعی ٹیکس وصولیاں 11257 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔ اسی عرصے کے ہدف کے مقابلے میں ایف بی آر نے 99.8 فیصد، یعنی عملی طور پر تقریباً 100 فیصد ہدف حاصل کر لیا، یہ اعداد و شمار کسی ریونیو بحران، مالیاتی ہنگامی صورتحال یا بڑے پیمانے کے ٹیکس شارٹ فال کے دعوئوں کی تائید نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ جون 2026 کا ریونیو ہدف نظرثانی شدہ مالیاتی فریم ورک کی بنیاد پر مقرر کیا گیا ہے، نہ کہ ان پرانے اعداد و شمار کی بنیاد پر جن کا حوالہ اب بھی بعض حلقوں کی جانب سے دیا جا رہا ہے۔جون 2025 میں ایف بی آر نے 1502 ارب روپے جمع کیے تھے، جبکہ جون 2026 کا ہدف 1727 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے 15 فیصد نمو درکار ہے۔

یہ شرح نمو نظرثانی شدہ سالانہ ہدف کے حصول کے ساتھ مکمل طور پر مطابقت رکھتی ہے۔خرم شہزاد نے کہا کہ بڑے ریونیو گیپ سے متعلق سنسنی خیز دعوے مالیاتی صورتحال کی درست عکاسی نہیں کرتے، مبینہ شارٹ فال کی بنیاد پر اضافی یا غیر معمولی ٹیکس وصولی یا نفاذی اقدامات کے خدشات کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔ اسی طرح مالی سال کے آخری مہینے میں غیر معمولی ریونیو یا نفاذی اقدامات سے متعلق قیاس آرائیاں بھی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں، جب نظرثانی شدہ مالیاتی فریم ورک کو مدنظر رکھا جائے تو بڑے ریونیو گیپ کا بیانیہ برقرار نہیں رہتا۔

خرم شہزاد نے کہا کہ مالیاتی امور پر عوامی تبصرہ موجودہ سرکاری اعداد و شمار اور حقیقی معاشی حالات کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے پرانے معیارات کیاستعمال پر جو مالیاتی دبا کا گمراہ کن تاثر پیدا کریں، بدلتے ہوئے معاشی حالات، نظرثانی شدہ مالیاتی تخمینوں اور وسیع تر معاشی تناظر کو نظرانداز کرنے سے ایسے نتائج اخذ کیے جاتے ہیں جو حقائق اور موجودہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ مالیاتی امور پر تبصرہ کیلئے ذمہ دارانہ حقائق اور تناظر اہمیت کا حامل ہے ، ذمہ دارانہ مالیاتی تبصرے کے لیے دونوں عوامل ناگزیر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں