اسلام آ باد (رپورٹنگ آن لائن) پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ڈیرہ غازی خان کے ایک دیہاتی ریاض حسین کے لیے موسم گرما میں مون سون کی بارشیں کسی زمانے میں کاشتکاری میں سب سے بڑی غیر یقینی صورتحال تھی۔
گزشتہ برسوں میں، موسم کی درست پیشین گوئی کی کمی کے باعث، فصل کی کٹائی کے سیزن کے دوران اچانک موسلا دھار بارشیں اکثر انہیں اور آس پاس کے دیگر کسانوں کو وقت پر کٹائی کرنے سے روک دیتی تھیں، جس کے نتیجے میں تیار گندم کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچتا تھا۔ تاہم، اس سال، ریاض حسین نے درست اور بروقت موسمی انتباہات کی بدولت، کامیابی کے ساتھ تیز بارشوں کے متعدد ادوار سے فصلوں کو بچایا ، جس سے ان کے نقصانات نمایاں طور پر کم ہو ئے۔ یہ مستحکم فصل “ما زو” سسٹم کے بغیر ممکن نہیں ہے، جوچین میں تیاراور پاکستان میں نافذ کئے جانے والا اے آئی سے چلنے والا ذہین موسمی پیش گوئی کرنے والا سسٹم ہے۔
“ما زو” سسٹم ایک ذہین موسمیاتی سروس پلیٹ فارم ہے جسے چین نے اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کردہ “سب کے لیے ابتدائی انتباہ” کی تجویز پر تیار کیا ہے ۔ یہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے موسمیاتی، سیٹلائٹ اور جغرافیائی ڈیٹا کو یکجا کرتا ہے اور ترقی پذیر ممالک کو ان کے پیچیدہ موسمی حالات کے مطابق مفت اور اعلیٰ درستگی کے ساتھ آفات کی ابتدائی انتباہی خدمات فراہم کرتا ہے۔ 2025 میں، چینی اور پاکستانی موسمیاتی ٹیموں نے مشترکہ طور پر پاکستان میں تیز بارش اور برفانی جھیلوں سے اچانک پانی کے اخراج جیسی زیادہ پیش آنے والی آفات کے لیے موسم کی پیش گوئی کا مقامی ورژن تیار کیا۔ اسی سال اکتوبر میں، اسے باضابطہ طور پر پاکستان کے محکمہ موسمیات کے آپریشنل سسٹم میں ضم کرکے ملک بھر میں معمول کے آپریشنز میں شامل کیا گیا اور پاکستان کے موسمی انتباہات میں موجود دیرینہ خامیوں کو دور کیا گیا۔
اس کے نفاذ کے بعد سے، اس نظام کی اعلیٰ کارکردگی کو پاکستان میں پیشہ ورانہ شخصیات نے بہت سراہا۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر فارق بشیر نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ ماضی میں پاکستان میں پیشین گوئی کے لیے متعدد ذرائع سے بکھرے ہوئے ڈیٹا کے انضمام کی ضرورت تھی، جو کہ وقت طلب اور محنت طلب کام تھا۔ تاہم، “ما زو” سسٹم کے مربوط ڈیٹا اور ذہین تجزیے سے پیشین گوئیوں کی کارکردگی اور درستگی میں بہت بہتری آئی ہے اور یہ مقامی موسمی پیش گوئی کرنے والوں کے لیے ایک بنیادی آلہ بن گیا ہے۔
2026 کے مون سون سیزن کے دوران، اس نظام نے زیادہ بارشوں کے متعدد ادوار کی درست پیشین گوئی کی، جس سے صوبہ پنجاب کے بنیادی اناج پیدا کرنے والے علاقوں میں کسانوں کی رہنمائی کی گئی کہ وہ اپنی فصلوں کی بروقت کٹائی کریں۔ اس کے ساتھ ہی، اس نے صوبہ بلوچستان کے ضلع نصیر آباد اور شمال میں برفانی آفات کا شکار اہم علاقوں کے لیے سیلاب اور برفانی جھیل سے پانی کے اخراج کی وارننگ فراہم کی، مقامی لوگوں کو قبل از وقت انخلا میں مدد فراہم کی اور مؤثر طریقے سے ان کی جان و مال کی حفاظت کی۔ چین نے نظام کے مقامی آپریشنز اور دیکھ بھال پر مامور پاکستانی عملے کے لیے باقاعدہ تکنیکی تربیت کا بھی اہتمام کیا ، جس سے حقیقی معنوں میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اورمشترکہ صلاحیت سازی کو عملی جامہ پہنایا گیا۔ فی الحال، “ما زو” سسٹم کو دنیا کے 7 ممالک میں نصب کیا گیا ہے، اور 40 سے زائد ممالک اس تک رسائی اور اشتراک کر سکتے ہیں۔
اس وقت دنیا بھر میں شدید موسمی واقعات تواتر کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں ، لیکن موسمیاتی آفات سے بچاؤ کے وسائل کی تقسیم شدید طور پر غیر متوازن ہے۔ اعلی درجے کی موسمیاتی وارننگ پر مبنی ٹیکنالوجیز پر زیادہ تر چند ممالک کی اجارہ داری ہے، اور تکنیکی رکاوٹیں اور زیادہ اخراجات انہیں بہت سے ترقی پذیر ممالک کے لیے ناقابل استعمال بنائے ہوئے ہیں ۔ بین الاقوامی موسمیاتی تعاون کے متعدد انیشی ایٹوزپیش کئے جا چکے ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر صرف کاغذ پر ہی محدود ہیں اور انہیں عام لوگوں کو فائدہ پہنچانے والےعملی نتائج میں تبدیل کرنا مشکل ہے۔
اضافی شرائط کے ساتھ کچھ بین الاقوامی تعاون کے برعکس، چین پاکستان تعاون ہمیشہ لوگوں کے ذریعہ معاش سے جڑا رہا ہے اور یہ تعاون عملی اور خالص ہے۔ اکتوبر 2023 میں، چین-پاکستان ارتھ سائنس ریسرچ سینٹر کا باضابطہ طور پر افتتاح کیا گیا، جس میں دونوں فریق لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئرسے متعلق آفات پر مشترکہ تحقیقات اورباصلاحیت افراد کی تربیت کر رہے ہیں۔ اسی سال، چائنا پاکستان ویٹ مالیکیولر بریڈنگ جوائنٹ لیبارٹری کا آغاز کیا گیا تاکہ پاکستان کے مقامی حالات کے مطابق بیماریوں کے خلاف مزاحمت اور زیادہ پیداوار والی گندم کی اقسام کو مشترکہ طور پر تیار کیا جا سکے اورمقامی غذائی تحفظ میں مدد فراہم کی جا سکے۔ مئی 2024 میں، گوادر میں چائنا پاکستان فرینڈ شپ ہسپتال نے کام شروع کیا، جس سے مقامی لوگوں کو سستی جامع طبی خدمات فراہم کی گئیں۔
مئی 2026 میں، چائنا پاکستان ارتھ سائنس ریسرچ سینٹر اور پاکستان کے محکمہ جیولوجیکل سروے نے ارضیاتی آفات کے خطرے کی تشخیص میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے ایک نئے معاہدے پر دستخط کیے۔ “ما زو” موسمیاتی ابتدائی وارننگ سسٹم کی مشترکہ تحقیق اور ترقی اورٹیلنٹس کی تربیت کے علاوہ، جو اکتوبر 2025 میں شروع کی جا چکی تھی ، جیولوجیکل ڈیزاسٹر ریسرچ، زرعی افزائش، طبی خدمات سے لے کر موسمیاتی آفات سے بچاؤ تک تعاون کا یہ سلسلہ، مقامی لوگوں کے ذریعہ معاش سے گہرا تعلق رکھتا ہے اوراس پر کسی قسم کی سیاسی شرائط نہیں ہیں ۔ بلاشبہ یہ لوگوں کے ذریعہ معاش کے میدان میں گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو اور گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو کا ایک عملی نمونہ ہے۔
سرحد پار موسمیاتی ابتدائی انتباہ کے لئے یہ نظام چین کے بطورایک بڑے ملک بیرونی دنیا کے ساتھ تعاون میں اپنی دوستی اور ذمہ داری کو ظاہر کرتا ہے۔ “سب کے لیے ابتدائی انتباہ” کےحوالےسے اقوام متحدہ کے عظیم وژن کی تکمیل کے لیے عملی منصوبوں اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ جغرافیائی سیاسی تقسیم اور بڑھتی ہوئی تکنیکی رکاوٹوں کے دور میں، چین گلوبل ساؤتھ ممالک کو موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون کے ایک ایسے ماڈل کے ذریعے ٹھوس مدد فراہم کر رہا ہے جو جامع ٹیکنالوجی کے اشتراک اور لوگوں کے ذریعہ معاش کو ترجیح دینے پر مبنی ہے۔
مازوسسٹم، جو پہاڑوں اور سمندروں کو عبور کرتا ہے، حقیقی کثیرالجہتی کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ اس سسٹم کی طرح ،گروہی تصادم سے کنارہ کشی، باہمی فائدے اور مشترکہ کامیابی پر اصرار، اور مشترکہ تعاون کے ذریعے عالمی حکمرانی کے مسائل کا حل تلاش کیا جانا موجودہ وقت کی انتہائی ضرورت ہے تاکہ اس ہنگامہ خیز اور منقسم دنیا کو پائیدار اور پرعزم مثبت توانائی فراہم کی جا سکے۔









