ہائیکورٹ 8

لاہور ہائیکورٹ کا دو سال سے مبینہ طور پر لاپتہ شہری کی عدم بازیابی پر برہم ، پولیس کی کارکردگی پر سخت سوالات

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی احکامات کے باوجود دو سال سے مبینہ طور پر لاپتہ شہری کی بازیابی نہ ہونے پر پولیس کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے آئی جی پنجاب کو آئندہ سماعت تک شہری کو بازیاب کرانے کی ہدایت کردی اور کیس کی مزید سماعت 27اکتوبر تک ملتوی کردی۔جسٹس فاروق حیدر نے محمد عثمان کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت ڈی آئی جی لیگل اویس احمد ملک، ڈی پی او گجرات فیصل شہزاد سمیت دیگر پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مدثر نوید چٹھہ پیش ہوئے۔آئی جی پنجاب کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مدثر نوید چٹھہ نے شہری کی بازیابی کے لیے کیے گئے اقدامات سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی تاہم عدالت نے رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔جسٹس فاروق حیدر نے استفسار کیا کہ کیا آج تک کوئی ریکوری نہیں ہوئی؟۔پولیس افسران کی جانب سے بتایا گیا کہ آر پی او گوجرانوالہ کی سربراہی میں اجلاس ہوا، مدعی نے تین سوالات اٹھائے تھے جن پر پیش رفت کی گئی ہے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آج تک یہ ریکوری نہیں ہوئی۔

دوران سماعت جسٹس فاروق حیدر نے آر پی او گوجرانوالہ کی عدم موجودگی پر بھی استفسار کیا اور پوچھا کہ آر پی او گوجرانوالہ کدھر ہیں؟۔ڈی آئی جی لیگل اویس احمد ملک نے جواب دیا کہ سکیورٹی ایشو ہے، چھوٹی سی مہلت دے دی جائے۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی عدم موجودگی پر بھی استفسار کیا۔ جسٹس فاروق حیدر نے استفسار کیا کہ کیا ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نہیں ہیں یہاں؟۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مدثر نوید چٹھہ نے جواب دیا کہ وہ سپریم کورٹ اسلام آباد سپریم کورٹ میں ہیں ۔جسٹس فاروق حیدر نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو مبینہ لاپتہ شہری کی بازیابی اور پولیس کی کارروائی سے آگاہ کیا جائے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس میں ملزم پولیس ہے، کوئی اور نہیں ہے۔

جسٹس فاروق حیدر نے مزید کہا کہ دو اضلاع کی پولیس ہے، انہوں نے اپنے آپ کو کلیئر کرنا تھا۔عدالت نے آبزرویشن دی کہ مقدمے کو گوجرانوالہ ڈویژن کے بجائے کسی اور رینج میں منتقل کرنا چاہیے تھا۔ جسٹس فاروق حیدر نے سوال اٹھایا کہ اگر عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں ہوگا تو کیا توہین عدالت کی کارروائی نہیں بنتی؟،بار بار حکم کے باوجود ریکوری نہیں ہورہی تو کیا پولیس کی ناکامی نہیں؟۔عدالت نے قرار دیا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں پولیس کی کارکردگی پر اثرات ہوں گے۔عدالت نے پولیس کی پیش رفت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے کوئی قدم اٹھایا ہوتا تو عدالت کو اتنے سوالات نہ کرنے پڑتے۔جسٹس فاروق حیدر نے انسانی پہلو پر بھی بات کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ انسانی رویے کا نام ہی قانون ہے، انہوں نے اس پر کوئی کام نہیں کیا۔عدالت نے مزید کہا کہ ہم نے قانون کی منشا دیکھنی ہے۔

دوران سماعت مبینہ لاپتہ نوجوان کی والدہ بھی احاطہ ہائیکورٹ میں موجود تھیں جو بیٹے کی جدائی میں زاروقطار روتی رہیں۔ جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیئے کہ ایک ماں کا بچہ دو سال سے مبینہ طور پر لاپتہ ہے، اس نے بازیاب ہونا ہے۔درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ پولیس کی جانب سے ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی نئی کہانی بیان کی جاتی ہے لہٰذا آئی جی پولیس کو عدالت میں طلب کیا جائے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالت جس طرح اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے، اس پر ہمارا مزید بات کرنا بنتا نہیں۔

اس کیس میں درخواست گزار محمد عثمان نے اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے 10دسمبر 2024ء کو لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت کی جانب سے متعدد مواقع پر پولیس کو مبینہ لاپتہ شہری کی بازیابی کی ہدایت کی گئی تاہم شہری تاحال بازیاب نہیں ہوسکا۔عدالت نے آئی جی پنجاب کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد مزید مہلت دیتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک مبینہ لاپتہ شہری کی بازیابی یقینی بنائی جائے اور پولیس کی پیش رفت عدالت کے سامنے پیش کی جائے۔لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 27اکتوبر تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں