محسن نقوی 6

حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم،مذاکرات کل دوپہر 2 بجے تک ملتوی

اسلام آباد( رپورٹنگ آن لائن) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی معاملات پر مذاکرات کے پہلے دور میں فریقین کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے،دوسرا دور کل (ہفتہ کو) ہوگا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جمعے کے روز اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے چیمبر کے کمیٹی روم میں مذاکرات ہوئے ۔

حکومت کی جانب سے مذاکراتی وفد کی قیادت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی جب کہ دیگر ارکان میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور رانا ثنا اللہ بھی شریک تھےاپوزیشن کی مذاکراتی ٹیم میں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجہ شامل تھے ۔پیپلزپارٹی کی جانب سے سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی اجلاس میں شریک ہوگئے ۔اپوزیشن وفد کا اسپیکر چیمبر پہنچنے پر سردار ایاز صادق نے استقبال کیا۔

ذرائع کے مطابق مذاکراتی دور میں فریقین کے درمیان بعض معاملات پر گرما گرمی بھی دیکھنے میں آئی تاہم اس دوران دونوں جانب سے بات چیت میں کوئی تعطل نہیں آیا اور مذاکرات بدستور جاری رہے ۔سفارشات کے تبادلے کے بعد دونوں فریق اپنے اپنے اراکین کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور اپنے اپنے مطالبات اور تجاویز پر مشاورت کی ۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنما ﺅں نے اپنے قائدین کو بھی مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت اور زیرِ بحث معاملات سے آگاہ کیا ۔دوسری جانب حکومتی ارکا ن نے اپوزیشن کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات اور سفارشات پر مشاورت کی ۔ذرائع کے مطابق کمیٹی روم میں جاری مذاکرات میں رانا ثنااللہ اور راجا ناصر عباس کے درمیان عدالتی معاملات پر تبادلہ خیال کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ راجا ناصرعباس نے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونے اور بانی چیئرمین سے ملاقاتوں پر پابندی کے حکومتی اقدامات پر تنقید اور مایوسی کا اظہار کیا۔

اس موقع پر رانا ثنااللہ نے موقف اپنایا کہ عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں اور حکومت لانگ مارچ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔حکومتی وفد نے سخت مقف اپناتے ہوئے واضح کیا کہ احتجاج کے نام پر اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی اور لانگ مارچ یا اڈیالہ جیل پر حملے کی دھمکیاں دینا درست سیاسی رویہ نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی ارکان نے یہ بھی موقف اپنایا کہ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن کو بھی لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مداخلت کی اور فریقین پر افہام و تفہیم کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے اراکین نے مذاکرات کے دوران زیادہ تر خاموشی اختیار کیے رکھی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کے دوران خیبر پختونخوا کے حالات اور امن و امان کی صورتِ حال پر حکومتی اور اپوزیشن رہنماں کو بریف بھی کیا۔اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے صحافیوں نے کمیٹی روم پہنچنے سے قبل سوال کیا کہ کیا وہ مذاکرات میں سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں اور کیا اس عمل کا کوئی نتیجہ نکلے گا۔اس پر اسپیکر نے جواب میں سورہ فاتحہ کی پہلی آیت الحمدللہ رب العالمین پڑھی۔اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا مزید کہنا تھا کہ وہ صرف سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں اور دعاگو ہیں کہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں، اختلافِ رائے اور مسائل کے حل کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا دفتر مسائل کے حل اور مذاکرات کےلئے ہمیشہ کھلا ہے۔اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ عہدے اور دفاتر عارضی ہوتے ہیں، پارلیمان ہی وہ فورم ہے جہاں مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مذاکرات اچھے ماحول میں ہوئے، امید ہے بات چیت کا سلسلہ ہفتہ کو بھی جاری رہے گا۔جمعے کے روز مذاکرات سے قبل وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہورہے ہیں، اچھی امید کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھیں گے۔ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالنا ملک کے لیے بہتر ہے۔

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ بار بار اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کے بجائے سیاسی رویہ اپنانا پڑے گا، مذاکرات میں ممکنہ حل کی جانب بڑھیں گے۔وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ہر جگہ مذاکرات کی دعوت دی، پارلیمانی جماعتوں سے مذاکرات میں کبھی جھجک نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ آئیں مسائل پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل کریں اور اس موقع کو ضائع نہ کریں۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہم انصاف کی بات کریں گے، انصاف مکمل ختم ہوچکا ہے، ہمیں پانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت چاہیے، اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو معاملہ آگے بڑھے گا، ورنہ ایسا ہی رہے گا ہمیں پانی پی ٹی آئی کی رہائی اور انصاف چاہیے۔اسد قیصر کا کہنا ہے کہ ہم بانی سے اس لیے ملاقات چاہتے ہیں تاکہ ان سے مل کر ایجنڈا طے کریں، ہم بانی سے ملاقات کریں گے اور اس کی روشنی میں آگے بڑھاجائےگا،

عمران خان کی بہنوں کے حوالے سے بات ہوگی لیکن بانی سے ملنے کا معاملہ سب سے اہم ہے، سب سے پہلے ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنے لیڈر سے ملاقات کرنے دی جائے۔عامر ڈوگر کا کہنا تھا میں شروع سے ملاقات اور مذاکرات کا حامی ہوں، سیاسی معاملات کو محاذ آرائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے، ہم نہیں چاہتے کسی ادارے کے ساتھ ہمارا تصادم یا لڑائی ہو۔علامہ ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے محمود اچکزئی کی ملاقات کا معاملہ رکھیں گے، بانی سے ملاقات کے بغیر معاملات حل ہو ہی نہیں سکتے، ان مذاکرت کے حوالے سے کچھ شرائط طے ہونی چاہیے، مسائل کا آسان ترین حل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں