سردار ایاز صادق 98

قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا’ اسپیکر سردار ایاز صادق

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کے خلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا، اپوزیشن لیڈر ٹھیک بات کرتے رہیں گے تو انہیں فلور ملتا رہے گا،پاکستان کی معیشت مضبوط ہوتی جا رہی ہے،

ہماری خارجہ پالیسی کبھی اتنی اچھی نہیں تھی جتنی آج ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے)کے دورے کے دوران اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گے۔میرا مشورہ یہی ہے کہ پارلیمنٹ میں آئیں، پارلیمنٹ میں آ کر عوام کی خدمت کا کام کریں، احتجاج ضرور کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ اس میں آگ نہ لگائی جائے اور جانوں کا ضیاع نہ ہو۔

توڑ پھوڑ، ڈنڈوں اور بندوقوں کی موجودگی تشویش کا باعث بنتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی پاکستان کے خلاف بات کرے گا تو اسے گفتگو کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں عدلیہ اور ججز کے کردار پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اسی طرح افواج پاکستان کے خلاف بات بھی نہیں کرنے دی جائے گی اور صرف اسی گفتگو کی اجازت ہو گی جو آئین کے دائرے میں ہو۔سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم پاکستان سے مشاورت کرتے ہیں اور وزیر اعظم انہیں کسی چیز سے نہیں روکتے۔ انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں تاہم جو کوئی بھی پاکستان کے خلاف بات کرے گا اسے اجازت نہیں دی جائے گی۔اگر ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں اور ملک کا نقصان چاہتے ہیں تو کر کے دیکھ لیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہوتی جا رہی ہے ۔

زرمبادلہ کے ذخائر 40ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کبھی اتنی اچھی نہیں تھی جتنی آج ہے، صرف ہمسایہ ملک سے مسئلہ ہے جو ہمارے بچوں کی جانوں سے کھیلتا ہے۔باقی پاکستان کے امریکہ، چین، روس، ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں ہمارے ملک میں بھی مافیا ہیں، ان سے لڑنا عوام کا کام ہے،حق اور سچ ان کا راستہ روکتے ہیں۔

قبل ازیں این سی اے آمد پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری نے سینئر فیکلٹی کے ہمراہ ان کا پرتپاک استقبال کیا۔دورے کے موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے این سی اے میں منعقدہ ڈگری شو کا مشاہدہ کیا اور طلبہ کے فن پاروں کو سراہا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سردار ایاز صادق نے کہا کہ نوجوان فنکار پاکستان کا روشن مستقبل ہیں اور طلبہ کے تخلیقی کام پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فنونِ لطیفہ کسی بھی قوم کی شناخت اور اس کے ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہوتے ہیں جبکہ این سی اے جیسے ادارے نوجوانوں میں تخلیقی سوچ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تخلیقی صلاحیتوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ حکومت تعلیمی اور ثقافتی اداروں کی ترقی کے لیے پرعزم ہے اور اس ضمن میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ نیشنل کالج آف آرٹس ایک بہترین یونیورسٹی ہے ۔ این سی اے نے قومی سطح پر شہرت حاصل کر لی ہے، جس کے طلبہ بہت کچھ حاصل کر رہے ہیں۔ یہاں کے نوجوان طلبہ ریسرچ کے بعد کام کرتے ہیں جو تخلیقی ہوتا ہے۔

وائس چانسلر این سی اے پروفیسر ڈاکٹر مرتضی جعفری نے این سی اے آمد پر سردار ایاز صادق کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس طرح کے دورے طلبہ اور اساتذہ کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں