اسلام آباد ہائیکورٹ 18

قانونی اجازت والے شیشہ کیفے کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیشہ کیفے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے مجاز اتھارٹی کے اجازت نامے اور قانونی تقاضے پورے کرنے والے شیشہ کیفے کے خلاف تادیبی کارروائی سے روک دیا، جبکہ غیر قانونی شیشہ سرگرمیوں اور منشیات سے متعلق جرائم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے تین صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کیا۔ عدالت نے شیشہ کیفے کے لیے مؤثر ریگولیٹری فریم ورک مکمل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی کابینہ میں زیرِ غور شیشہ سے متعلق قوانین کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کردی۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو معاملہ متعلقہ حکام کے سامنے اٹھانے جبکہ شیشہ کیفے سے متعلق مطلوبہ ریگولیٹری فریم ورک ایک ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے فریم ورک کی تکمیل سے متعلق تعمیلی رپورٹ بھی ایک ماہ میں جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کو غیر قانونی شیشہ اور منشیات سے متعلق جرائم کی روک تھام اور نشاندہی کے لیے قانون کے مطابق ضروری اقدامات کرنے کا حکم دیا، جبکہ اینٹی نارکوٹکس فورس کو بھی اپنے قانونی اختیارات کی حدود میں رہتے ہوئے فرائض انجام دینے کی ہدایت کی۔عدالت نے قرار دیا کہ اے این ایف پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کرے اور جہاں غیر قانونی سرگرمیوں کے شواہد موجود ہوں وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

حکمنامے میں متعلقہ اتھارٹیز کو خاص طور پر نوجوان نسل کو سگریٹ نوشی، نشہ آور اشیاء کے استعمال اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سے بچانے پر توجہ دینے کی ہدایت کی گئی۔

عدالت نے واضح کیا کہ کسی ایسے ادارے یا ریسٹورنٹ کے خلاف تادیبی کارروائی نہ کی جائے جو متعلقہ اتھارٹیز سے جاری کردہ اجازت نامے کے مطابق شیشہ چلا رہا ہو، تاہم کسی غیر قانونی سرگرمی یا قانون اور اجازت نامے کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔درخواست پر مزید سماعت 13 اکتوبر کو مقرر کردی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں