سینیٹر مشاہد حسین سید 22

قائداعظم نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان قائم کیا، جو ملتِ اسلامیہ کے لیے باعثِ فخر ہے،سینیٹر مشاہد حسین سید

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سابق وفاقی وزیر ، معروف ماہر عالمی سیاست بین الاقوامی تعلقات سینیٹر مشاہد حسین نے کہا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان قائم کیا، جو پوری ملتِ اسلامیہ کے لیے باعثِ فخر ہے۔ پاکستان کا دنیا بھر کے ممالک بالخصوص اسلامی ممالک کے ساتھ احترام اور وقار کا رشتہ قائم ہے اور دفاعِ پاکستان دراصل نظریہ پاکستان کے دفاع سے جڑا ہوا ہے۔

قائداعظم محمد علی جناح نے 1937ء میں فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کی قرارداد منظور کر کے امتِ مسلمہ کے اجتماعی شعور کی ترجمانی کی تھی۔قائداعظم کا تصورِ پاکستان محض ایک قومی ریاست کا نہیں بلکہ عالمی سیاست میں ایک فعال، باوقار اور مؤثر کردار ادا کرنے والی مملکت کا تھا۔ آج پاکستان خطے میں اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور عالمی تنازعات میں ثالثی کی صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان صرف اپنی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع ہی نہیںبلکہ خطے میں ابھرنے والے توسیع پسندانہ نظریات، خصوصاً اکھنڈ بھارت اور آر ایس ایس کے عزائم کے خلاف بھی ایک مضبوط حصار ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے فرسٹ پیراماؤنٹ مضاربہ آن اسلامک فائنینشل انسٹی ٹیوشن کے تحت مقامی ہال قائد اعظم محمد علی جناح کی تقاریر پر مشتمل کتاب ”بانی پاکستان کی آواز” (The Founder Voice) کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کتاب DEMPمنسٹری آف انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ کی زیر نگرانی ڈاکٹر فارو ق احمد ڈار نے مرتب کی ہے ۔تقریب سے امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن،سی ای او پیرا ماؤنٹ مضاربہ سید وجیہ حسن ،معروف ماہرِ تعلیم، دانشور و اسکالر سید جعفر احمد اور انجینئر نعیم الیاس خانانی نے بھی خطاب کیا۔سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ خطے اور دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، مغربی دنیا تقسیم کا شکار ہے جبکہ عالمی طاقتوں کے توازن میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ اسلامی دنیا کے اہم ممالک کے درمیان دفاعی اور سفارتی تعاون کے امکانات روشن ہیں، جو خطے میں استحکام اور خودمختاری کو فروغ دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ برصغیر اور جنوبی ایشیا میں بھی سیاسی تبدیلیوں کی نئی لہر دیکھی جا رہی ہے، اور پاکستان میں بھی ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو قائداعظم کے وژن کے مطابق سماجی انصاف، مساوات اور عوامی فلاح کا نظام قائم کرے۔سینیٹر مشاہد حسین نے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن ملک میں غریب و امیر کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم کرنے اور حقیقی تبدیلی کے داعی ہیں۔ امید ہے کہ پاکستان میں ایسی قیادت ابھرے گی جو قائداعظم کے تصور کے مطابق ایک منصفانہ، خوشحال اور باوقار پاکستان کی تعمیر کرے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد بدقسمتی سے ملک میں وہ نظام قائم نہ ہو سکا جس کا خواب قائداعظم اور تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں نے دیکھا تھا۔ ملک میں آغاز ہی سے جاگیردارانہ اور وڈیرا شاہی سوچ نے سیاسی و معاشی نظام پر اثر انداز ہو کر عوامی مفادات کو نقصان پہنچایا۔آج ملک میں رائج نظام کی حقیقی تبدیلی کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے ذہنوں کی آبیاری، رائے عامہ کی ہمواری اور عوامی شعور کی بیداری ناگزیر ہے۔ جماعت اسلامی ایک عام آدمی کی جماعت ہے جو ملک میں دیانت دار، جوابدہ اور عوام دوست نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ اشرافیہ کسی ایک سیاسی جماعت کا نام نہیں بلکہ ایک طبقے کا نام ہے، جو کئی دہائیوں سے وسائل اور اختیارات پر قابض ہے، جبکہ مہنگائی، ٹیکسوں کے بوجھ اور معاشی مشکلات کا اصل اثر عام آدمی پر پڑتا ہے۔

جماعت اسلامی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، اور ملک بھر میں لاکھوں نوجوان ہمارے جدید ٹیکنالوجی اور آئی ٹی پروگرامز میں رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔اسلام کا عادلانہ نظام ہر فرد کو جوابدہ بناتا ہے اور جمہوری روایتوں کے احترام کے ساتھ اجتماعی انصاف کو یقینی بناتا ہے۔ ہمیںاسلام پر فخر ہے اور ہم اس ملک میں عدل، دیانت اور اسلامی اصولوں پر مبنی نظام کے نفاذ کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ”بانی پاکستان کی آواز (The Founder Voice)” قائداعظم محمد علی جناح کے شایانِ شان ایک اہم کتاب ہے، جس میں تحریکِ پاکستان کے دوران قائداعظم کی تقاریر کو یکجا کیا گیا ہے۔ یہ کتاب نئی نسل کو قائداعظم کے افکار، نظریات اور جدوجہد سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی، آئینی اور نظریاتی رہنمائی اور اپنی سیاسی بصیرت، قانونی مہارت اور قیادت کے ذریعے برصغیر مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے حصول کی جدوجہد کی اور علامہ محمد اقبال سمیت دیگر اکابرین کی مشاورت سے تحریکِ پاکستان کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔

قائداعظم کا یہ وژن تھا کہ ایک مضبوط پاکستان نہ صرف اپنے شہریوں بلکہ پورے خطے میں مسلمانوں کے لیے امید اور تحفظ کی علامت ہوگا۔ آج بھارت میں انتہا پسندانہ نظریات اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم اس حقیقت کو مزید واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کا قیام ایک تاریخی ضرورت تھا۔امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ پاکستان کا قیام صرف جغرافیائی تقسیم نہیں بلکہ ایک نظریاتی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔

اس نظریے کی بنیاد اسلامی اصولوں، تہذیب، روایات اور اجتماعی شناخت پر تھی۔ ملک میں اسلام کا عادلانہ اور منصفانہ نظام نافذ ہو جائے تو معاشی، سماجی اور سیاسی مسائل کے حل کی راہیں خود بخود ہموار ہو جائیں گی۔اسلام محض چند ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ضابط ٔ حیات ہے، جو جدید دور کے تمام تقاضوں کا احاطہ ہے۔ اسلام کے اصول عدل و انصاف ، احتساب، مساوات اور عوامی حقوق کے تحفظ پر مبنی ہیں، اور یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک حقیقی فلاحی ریاست قائم کی جا سکتی ہے۔ سید جعفر احمد نے کہا ہے کہ ”بانی پاکستان کی آواز (The Founder Voice)” ایک نہایت اہم کتاب ہے جو قائداعظم محمد علی جناح کے خطابات کا قیمتی مجموعہ ہے۔ قائداعظم کی ہندوستان میں کی جانے والی تقاریر بیسویں صدی کی سیاسی فکر کے لیے ایک روشن مثال اور رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح کی اصل قوت کسی فوجی طاقت میں نہیں بلکہ قانون، دلیل اور آئینی جدوجہد میں تھی۔

انہوں نے بیرونِ ملک جا کر علم حاصل کیا، جدید سیاسی اور قانونی تصورات کو سمجھا اور جو کچھ وہاں سیکھا اسے برصغیر کے سیاسی حالات پر تخلیقی انداز میں منطبق کیا۔ قائداعظم نے ہندوستان کے مسلمانوں کا مقدمہ قانونی، آئینی اور سیاسی بنیادوں پر لڑا اور ثابت کیا کہ پاکستان کسی اتفاقی واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک واضح نظریے اور طویل جدوجہد کے مطابق معرضِ وجود میں آیا۔ مسلمانوں نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر ایک الگ ریاست کے قیام کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ قائداعظم نے یورپ میں سیکھی ہوئی سیاست اور آئینی بصیرت کو ہندوستانی سیاسی تناظر میں مؤثر انداز میں استعمال کیا۔ 1913ء سے اپنی سیاسی جدوجہد کے آخری دور تک وہ مسلسل مسلمانوں کے حقوق، ان کی سیاسی حیثیت اور عددی اکثریت کے اصول کی بنیاد پر ان کے جائز مطالبات کی وکالت کرتے رہے۔سید جعفر احمد نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح ایک غیر معمولی سیاسی رہنما تھے، جنہوں نے سیاست میں منطقی استدلال اور ریاضیاتی درستگی کے ساتھ فیصلے کیے۔ ان کی سیاسی حکمتِ عملی دلیل، توازن اور دوراندیشی کی بہترین مثال تھی۔ہمارے ہاں خواتین کو اسمبلیوں میں محدود نمائندگی دی جاتی ہے، حالانکہ وہ معاشرے کی نصف آبادی ہیں۔

خواتین کو بھی مردوں کی طرح انتخابات میں بھرپور حصہ لینے اور مکمل سیاسی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ قائداعظم نے 11 اگست 1947ء کی تاریخی تقریر میں کہا تھا کہ ہم ایک ایسی ریاست کے خواہاں ہیں جہاں تمام شہری آزادی، مساوات اور انصاف کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ یہی وہ تصورِ پاکستان ہے جسے آج سمجھنے اور عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔ سید وجیہ حسن نے کہا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح نے ہمیشہ آئین، قانون اور جمہوری جدوجہد کے راستے کو اختیار کیا۔ قائداعظم کا یہ تاریخی مؤقف کہ ”میرا راستہ آئین کا راستہ ہے” آج بھی قومی رہنمائی کا روشن مینار ہے اور اس جملے کو قومی و صوبائی اسمبلیوں سمیت تمام اہم سرکاری و عوامی مقامات پر نمایاں طور پر تحریر کیا جانا چاہیے تاکہ آئینی بالادستی کی اہمیت اجاگر ہو سکے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے ہمیشہ عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کی اور نوجوانوں خصوصاً طلبہ کو قوم کے مستقبل کی تعمیر میں کلیدی حیثیت دی۔

ان کی پوری سیاسی جدوجہد عوامی حقوق، آئینی تحفظ اور اجتماعی فلاح کے اصولوں کے گرد گھومتی رہی۔آج ہم ایسے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں عوام کے بنیادی حقوق مختلف سطحوں پر متاثر ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں قائداعظم کی فکر، ان کے اصول اور ان کا آئینی وژن پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت ہم سب کے لیے ایک رول ماڈل ہے۔ ان کی دیانت، اصول پسندی، آئینی بصیرت اور قومی خدمت کا جذبہ ہر طبقہ فکر کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں