محمد جاوید قصوری 13

عوام کی صحت اور زندگیوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ، غفلت برداشت نہیں ، جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے لاہور میں فضائی آلودگی اور سموگ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور کا فضائی آلودگی میں پہلے نمبر پر آنا حکمرانوں کی ناقص حکمت عملی، غفلت اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ناکام پالیسیوں کا واضح ثبوت ہے،سموگ اور زہریلی فضائی آلودگی نے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے، سانس، آنکھوں، گلے اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مگر حکومت عملی اقدامات کرنے کے بجائے محض بیانات اور دعوؤں تک محدود ہے۔

انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حکومت پنجاب نے سموگ کے تدارک کے لیے بڑے بڑے اعلانات کیے، خصوصی مہمات چلانے اور آلودگی پر قابو پانے کے دعوے بھی کیے گئے، لیکن زمینی حقائق ان دعوؤں کی نفی کر رہے ہیں۔ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں فضائی آلودگی خطرناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ شہریوں کو صاف ہوا میں سانس لینے کا بنیادی حق بھی میسر نہیں۔ بچے، بزرگ، خواتین اور پہلے سے بیماریوں میں مبتلا افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں کے طلبہ اور روزگار کے لیے گھروں سے نکلنے والے محنت کش بھی زہریلی فضا میں سانس لینے پر مجبور ہیں۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ سموگ سے متاثرہ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ سانس کی تکالیف، دمہ، الرجی، کھانسی اور آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا مریض علاج کے لیے ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب سرکاری ہسپتالوں میں پہلے ہی بستروں کی کمی، ادویات کی عدم دستیابی، طبی سہولیات کے فقدان اور عملے کی کمی جیسے مسائل موجود ہیں۔ مریضوں اور ان کے لواحقین کو طویل انتظار اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

غریب اور متوسط طبقے کے افراد نجی ہسپتالوں کے مہنگے علاج کے متحمل نہیں ہو سکتے۔انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکمرانوں کے پاس نمائشی اقدامات اور تشہیری مہمات کے لیے وسائل موجود ہیں، لیکن عوام کو صاف ماحول، معیاری علاج اور بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی۔ حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ سموگ محض موسمی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی زندگیوں اور عوامی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر سموگ کے خاتمے کے لیے جامع اور قابلِ عمل منصوبہ تشکیل دے، صنعتی اور گاڑیوں کے دھوئیں، غیر معیاری ایندھن، کچرا جلانے اور فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔ شجرکاری مہم کو حقیقی معنوں میں آگے بڑھایا جائے اور سرکاری ہسپتالوں میں سموگ متاثرین کے لیے خصوصی وارڈز، ادویات، طبی عملے اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی صحت اور زندگیوں کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس سے کسی صورت غفلت برداشت نہیں کی جا سکتی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں