اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے معصوم لوگوں کو مروانے کیلئے احتجاج کی کال دی جارہی ہے، بانی پی ٹی آئی اقتدار کیلئے لاشیں گرانا چاہتے ہیں، وہ اسی منصوبے پر عمل پیرا ہیں اور سیاسی کفن پر آخری کیل ٹھوک رہے ہیں، گنڈاپور ایک پیادہ ہے اور اس کے پیچھے ایک کہانی ہے ، آپ کو سیاست کرنی ہے تو سیاست کریں بات کرو تومولاجٹ کی سیاست شروع ہوجاتی ہے ،جو بدمعاشی اور غنڈہ گردی کی بات کررہاہے وہ وزیر اعلیہے ،حکومت کی نالائقی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی چیزوں کو ہائی لائٹ نہیں کررہی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کواسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ پاکستان میں ایس سی او کا اجلاس ہونے جارہا ہے، اقتدار کے لیے ایک سیاسی جماعت بہت ہی گھناﺅنا کھیل کھیل رہی ہے، علی امین گنڈاپور مسلسل امن کے لیے خطرہ پیدا کررہے ہیں۔فیصل واوڈا نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کے تعاون سے سرمایہ کاری ہورہی ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی غلامی کی بات کرتے ہیں پہلے اپنی غلامی ٹھیک کریں، بانی پی ٹی آئی آزادی کی بات کرتے ہیں تو پہلے اپنے بیٹوں کو یہاں بلائیں، باپ پاکستان میں اتنا بڑا کام کرنے جارہا ہے پہلے اپنے بیٹے بلالیں، یہ کہتے ہیں میرے اقتدار کے لیے لاشیں گرادو، بانی پی ٹی آئی جگری دوست نعیم الحق کی وفات پر بھی نہ گئے۔
سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ میں نے پی ٹی آئی پر خون پسینہ پیسہ سب کچھ لگایا، میری والدہ کا انتقال ہوا تو تمسخر اڑایا گیا، بیرسٹرگوہر شریف آدمی ہیں اس کو کہہ دیا نکال دیں، آپ کو پریشانی ہے آئی پی پیز کا مسئلہ حل ہونے جارہا ہے، سرمایہ کاری آرہی ہے مگر حکومت نااہل ہے، پاکستان تحریک انصاف کو لاشیں چاہیے اور وہ اسی منصوبے پر عمل پیرا ہے، عمران خان اقتدار کے لیے لاشیں گرانا چاہتے ہیں اور لاشیں ہمیشہ معصوم پاکستانیوں کی ہی گری ہیں۔فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ قانون ریڈزون میں آنے سے منع کررہا ہے آپ کہتے ہو ڈی چوک آئیں گے، ریڈ زون میں اس لئے آنا چاہتے ہیں تاکہ لڑائی ہو، سب کو معلوم ہے کے پی میں کیا کرپشن ہورہی ہے، آپ کو کرپشن کرنے کا شوق ہے کریں، آپ کہہ رہے ہیں کے پی کے لوگوں پر گولی چلے گی توہم بھی ماریں گے، کون گولی مارے گا آپ لوگوں کو اشتعال کیوں دلارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں گالیاں دیتے ہیں، مولا جٹ کی سیاست شروع کردیتے ہیں، ڈکٹیٹر شپ کی غلامی آپ کے سر ہے، کے پی کے وسائل احتجاج کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں، بانی پی ٹی آئی کو پہلے بھی روکا آج بھی روک رہا ہوں، آپ پنجابی اور پٹھانوں کی لڑائی کرانا چاہتے ہیں، لاشوں کا انتظار کررہے ہیں اس دوران تیسرا بندہ فائدہ نہ اٹھالے۔
انہوں نے کہا کہ گنڈا پور میرا دوست رہ چکا ہے ۔ کے پی کے میں کرپشن ہورہی ہے ۔ گنڈا پور قوم کو گمراہ کررہا ہے ۔ غلامی کررہے ہیں ۔ کے پی کے کا سی ایم گالی دے رہا ہے ۔ پی ٹی آئی نے فیض حمید کو اپنا باپ بنالیا تھا ۔ ہماری عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے فیض حمید سے متعلق بولنے پر تکالیف اٹھائی ہیں، بانی پی ٹی آئی نے فیض حمید کو آرمی چیف بنانا تھا، فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی تھا تو اس وقت کہا تھا غلط کررہے ہیں، پی ٹی آئی میں پلاننگ ہوچکی معصوم لوگوں کی لاشوں کو گرانا ہے۔فیصل واوڈا نے کہا کہ بدمعاشی اور غنڈہ گردی کی سیاست کرنی ہے تو پھر دیکھ لیتے ہیں، ریاست، سیاست اور حکومت کی بھی ایک حدود ہے، میں پھرکہہ رہا ہوں بڑھکیں مارنے سے کوئی فائدہ نہیں، کبھی نہیں سنا ایس آئی ایف سی ،فوج یا پولیس نے یہ کام کیے ہیں، آپ کہتے ہیں سیاسی کیس بنارہے ہیں۔سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آپ جان کرغیرقانونی کام کرنے جارہے ہیں تاکہ حالات خراب ہوں، میں موجودہ حکومت کا فین نہیں ہوں، مینڈیٹ کی بات کریں تو 2018 میں ہم نے چوری کیا آج یہاں ہوگیا، سیاست میں چوری کرپشن نارمل سی چیز ہے، آج بھی کہہ رہا ہوں مروت اور لحاظ بہت ہوگیا، یہاں تک نہ لائیں کہ اپنے فون سے قوم کے آگے چیزیں رکھنی پڑیں، صورتحال اس نہج پر نہ لائیں کہ چیزیں آﺅٹ آف کنٹرول ہوجائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گھٹیا ویڈیوز کا میں قائل نہیں، میرے فون میں بہت ویڈیوزبھری ہوئی ہیں، میں کوشش کررہا ہوں کہ قتل وغارت رک جائے، وقت پر پرامن احتجاج کرنا آپ کا حق ہے، میرے گھر میت ہو آپ ڈھول باجے لائیں تو جوتے ہی کھائیں گے، پارٹی چھوڑ گیا یا نکالا گیا ہوں تومیری زندگی تو ختم نہیں ہوگئی۔فیصل واوڈا نے کہا کہ ان بزدلوں جیسا نہیں جو 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی چھوڑ گئے۔یہ نہیں کہہ رہا کہ دودھ کی نہریں کس نے بہائی تھیں، اگلے ہفتے پاکستان کیلئے پھر ایک بڑی خبر آرہی ہے، تحریک انصاف بھی کوشش کرتی رہی، اگر ایس آئی ایف سی کا کریڈٹ ہے تو کسی کی بات کیوں کروں، جو فوج کی اچھی چیزیں ہیں ان کو سراہنا چاہیے، فیض حمید جب وردی میں بیٹھے ہوئے تو پریشانیاں جھیلیں، جہاں ڈکٹیٹر شپ ہو وہاں غلامی قبول نہیں کرسکتا، میں ان میں سے نہیں جو 9مئی پر مذمت کرنے آگئے تھے، میں آزاد ہوں میں غلامی کو قبول نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا میں کراچی والا ہوں گالیوں میں اتنی اسپیڈ ہے کہ فورسٹار بھی پیچھے رہ جائے گی، گالی اور بداخلاقی سے چیزیں ٹھیک نہیں کرسکتے، آپ سلام کریں گے تو جواب میں ڈبل سلام ملے گا، گالی دیں گے تو مجھ سے ڈبل گالی ملے گی، بانی پی ٹی آئی جس ڈگرپر جارہے ہیں اپنے سیاسی کفن پر آخری کیل ٹھونک رہے ہیں، ریاست کی رٹ چیلنج کریں گے یا کرنے چاہتے ہیں تو چیپٹر کلوز ہے۔فیصل واوڈا نے کہا کہ 190 ملین پانڈ کوئی سیاسی کیس نہیں ہے۔ 9 مئی بھی سیاسی کیس نہیں ہے۔
آپ جان بوجھ کر غیر قانونی کام کرنے جا رہے ہیں، تاکہ حالات خراب ہوں، گولیاں چل جائیں، خود بندے مار دیں اور مدعا کسی اور پر ڈال دیں۔ اس طرز سیاست سے ہمیں نکلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ میں دو سال پہلے ٹھیک تھا۔ مجھے خان صاحب سے بہت پیار تھا، میں نے انہیں بتایا کہ آپ پر گولیاں چلیں گی، آپ کے پیاروں نے ان پر گولیاں چلائیں، جن پر بھروسا کرتے تھے لیکن آج بھی پی ٹی آئی کے لوگوں کا دماغ کدھر ہے؟۔فیصل واوڈا نے کہا کہ آپ لیڈر سے پیار کرتے ہیں مگر یہ کیا بات ہے کہ آپ زبان سے بول نہ سکیں، آپ باتھ روم نہیں جا سکتے، آپ صرف آکے کہیں میں آگ لگاں گا، میں گولی مار دوں گا، میں اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا، میں اس پر حملہ کردوں گا۔ آپ کسی ماں بہن بیٹی کی پردہ داری کا خیال نہ کریں، کسی کے گھر میں گھس جائیں، میں آپ کے کسی کو گالی دوں گا تو کیا آپ میرا گریبان نہیں پکڑیں گے؟۔ انہوں نے کہا کہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کی بھی ایک حد ہے۔ سیاست کی بھی ایک حد ہے اسی طرح حکومت کی بھی ایک حد ہے۔ یہاں میری گزارش ہے اعلی عدلیہ سے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں۔ نہ یہ پی ٹی آئی کے باپ کا ملک ہے، نہ یہ ن لیگ یا پیپلز پارٹی کے باپ کا ملک ہے۔ یہ کسی کے باپ کا ملک نہیں ہے۔ میں بھی آپ کےسامنے ہوں، کس بے دردی سے مجھے نکالا تو کیا ہوا؟ کیا میرا رزق رک گیا، کیا میں معذور ہوگیا؟ مجھے کیا ہوا؟ چیزیں چلتی رہیں گی۔ لوگ لڑ رہے ہیں۔ شہرت کے نام پر لڑ رہے ہیں۔









