علیمہ خان 9

علیمہ خان کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر کارروائی 25ستمبر تک ملتوی

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر کارروائی 25ستمبر تک ملتوی کردی،جسٹس عبہر گل خان نے استفسار کیا کہ متعلقہ فورم سے رجوع کیے بغیر درخواست کیسے دائر ہوئی؟۔ لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے علیمہ خان کے بیٹے شاہ زیر کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ علیمہ خان کی جانب سے بیرسٹر تیمور اور عرفان کلار ایڈووکیٹ پیش ہوئے ، بعد ازاں وکیل رانا مدثر عمر نے بھی عدالت میں دلائل دیئے ۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ علیمہ خان کی نظر بندی کا معاملہ دیگر کیسز سے مختلف ہے، ایک ہی تاریخ کو ڈی آئی سی ہوئی اور اسی تاریخ کو نظر بندی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ پہلے گرفتار کیا گیا اور بعد میں نظر بندی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔

جسٹس عبہر گل خان نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے متعلقہ اتھارٹی سے رجوع کیا؟۔ عدالت نے سوال کیا کہ آپ کا کیس کیسے مختلف ہے؟۔ وکیل رانا مدثر عمر نے موقف اختیار کیا کہ نظر بندی کی رپورٹ میں علیمہ خان کے نو مئی کے واقعات میں ملوث ہونے کا ذکر کیا گیا اور خدشہ ظاہر کیا گیا کہ وہ دوبارہ سڑک بلاک کرسکتی ہیں۔ نو مئی کے مقدمے کی تفتیش میں علیمہ خان کو بے گناہ قرار دیا جاچکا ہے، اس کے باوجود نو مئی کو بنیاد بنا کر نظر بندی کیسے کی گئی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا علیمہ خان کے تمام مقدمات میں ضمانت منظور ہوچکی ہے؟۔

وکیل نے بتایا کہ دو سے تین مقدمات میں ضمانت ہونا باقی ہے۔جسٹس عبہر گل خان نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹ کے فل بینچ کا حکم ہے کہ پہلے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں کچھ ہوا ہے؟۔ وکیل نے تیاری کے لیے مہلت طلب کی، عدالت نے علیمہ خان کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر کارروائی 25ستمبر تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں