فیصل کریم کنڈی 12

صوبے میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے،فیصل کریم کنڈی

پشاور(رپورٹنگ آن لائن)گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے 46ویں میڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گورنرنے کہاکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، پولیس اور ایف سی مسلسل حالتِ جنگ میں فرائض انجام دے رہی ہیں، انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا افغانستان کی سرحد پر واقع ہے، جہاں غیر ملکی مداخلت اور چھوڑا گیا اسلحہ دہشت گردی میں استعمال ہوتا ہے، پولیس کو جس جنگ کی تربیت نہیں، وہی پولیس آج فرنٹ لائن پر لڑ رہی ہے۔

وفد سے گفتگو کرتے ہوئے گورنرنے کہاکہ افغان شہریوں کی دہشت گردی میں مبینہ شمولیت کے حوالے سے خدشات موجود ہیں،افغانستان سے بارہا دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا، تاہم خاطر خواہ تعاون نہیں ملا،انہوں نے کہاکہ سرحدی بندش سے دونوں ممالک کو معاشی نقصان ہو رہا ہے،غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کی واپسی کا عمل شروع کیا گیا ہے، دنیا میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو رہائش کی اجازت نہیں دی جاتی،گورنرنے کہاکہ قانونی طریقہ کار سے آنے والے افغان باشندوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، انہوں نے کہاکہ پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کی جارحیت کا پاکستان نے مؤثر جواب دیا، بین الاقوامی دباؤ کے باعث جنگ بندی ممکن ہوئی جس کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا، ایران، اسرائیل اور امریکہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا، پاکستان کی سفارتکاری کے باعث خطے میں بڑے تنازع سے بچاؤ ممکن ہوا۔

انہوںنے کہاکہ خیبرپختونخوا ملک میں سستی ترین بجلی پیدا کر رہا ہے، صوبے کو مہنگی بجلی فراہم کی جا رہی ہے، اس کے علاوہ خیبرپختونخوا ملک میں سب سے زیادہ تیل اور گیس پیدا کرنے والے صوبوں میں شامل ہے جبکہ صوبے میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ زیادہ ہے، واپڈا میں خیبرپختونخوا کی ہزاروں آسامیاں خالی ہیں،گورنرنے کہاکہ صوبے میں سی این جی بندش اور دیگر معاشی مسائل کا سامنا ہے، آئین کے مطابق صوبے کے حقوق کی فراہمی ناگزیر ہے،1991 کے معاہدے کے مطابق پانی کے حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے،گورنرنے کہاکہ سیاحت، مذہبی سیاحت اور کھیلوں کے شعبوں میں خیبرپختونخوا میں بے پناہ مواقع موجود ہیں،صوبے میں تعلیمی ادارے بڑھ رہے ہیں تاہم فنڈز کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

صوبے میں یونیورسٹیوں کو مالی مسائل اور تنخواہوں و پنشن کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ گورنرنے کہاکہ صوبائی و اپوزیشن جماعتیں وفاق سے حقوق کے لیے مشترکہ مؤقف رکھتی ہیں، تاہم حکومتی سطح پر مکمل تعاون نہیں مل رہا، انضمام کے بعد قبائلی اضلاع کو اپنا حق نہیں ملتا، صوبائی حکومت نے بھی قبائلی اضلاع کو ملنے والی رقم کو صحیح طرح خرچ نہیں کیا، ایک لاکھ مربع کلومیٹر ہمارا صوبہ ہے فاٹا انضمام کے بعدآبادی بھی بڑھ گئی ہے نیا این ایف سی ایوارڈ ضروری ہے،

اسی بھی صوبہ نے صوبائی فنانس کمیشن نہیں کرایا،گورنرنے کہاکہ وزیر اعلیٰ نے اس حوالہ سے کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے،صوبہ میں آئل ریفائنری اور فرٹیلائزرز انڈسٹری کے قیام کے لئے او جی ڈی سی ایل سے بات چیت کررہے ہیں،صوبہ میں معدنیات میں مقامی کمیونٹی کو شیئر دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں