رانا ثناء اللہ 14

صوبوں کیلئے ریفرنڈم ہونا ہے تو یہ معاملہ کابینہ میں زیر بحث لایا جائیگا’راناثنااللہ

لاہور( رپورٹنگ آن لائن) وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ میں،اسحاق ڈار اور طارق فضل چوہدری بیرسٹر گوہر کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کیلئے گئے تھے،پی ٹی آئی سے ملاقاتوں میں نہ کوئی چیز پکائی جارہی ہے نہ پک رہی ہے،علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آپ سے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں ملاقات کرنی ہے، وزیر قانون ،طارق فضل چوہدری میرے ساتھ اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں گئے تھے، بات ہوئی کہ اپوزیشن لیڈر اور لیڈرآف دی ہائوس کا رابطہ اورملاقات ہونی چاہیے۔

ایک انٹر ویو میں انہوںنے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے آئینی تقرری کیلئے وزیراعظم کو خط لکھا ہے، وزیراعظم اپوزیشن لیڈر کو ملاقات کی دعوت دینے والے ہیں، اپوزیشن لیڈر کو وزیراعظم ہائوس جاکر ملاقات کرنے میں تحفظات تھے، میں نے اپوزیشن لیڈر کو کہا وزیراعظم ہائوس ہماری ملکیت نہیں، میں نے کہا کسی اور جگہ وزیراعظم سے ملاقات کرنی ہے تو بتا دیں، شاید اپوزیشن لیڈر پارلیمنٹ ہائوس میں وزیراعظم سے ملاقات کا کہیں گے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر جس موضوع پر بات کرنا چاہیں وزیراعظم کی طرف سے کوئی قدغن نہیں ہو گی، ملاقات ہو گی تو راستہ نکلے گا،سیاستدان بیٹھتے ہیں تو راستہ نکلتا ہے، ہمارے پاس حل ہے،ہم بات بھی کرنے کیلئے تیارہیں۔ انہوںنے کہا کہ تحریک انصاف نے 27 ستمبر کا الٹی میٹم دیا ہوا ہے، ایک طرف 20 لاکھ بندوں کو اسلام آباد لانا چاہتے ہیں،دوسری طرف ملاقات کا کہتے ہیں، ملاقات ہو گی تو بات ہو گی کہ آپ کا کیا رویہ ہے.

انہوںنے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ صوبوں کے حوالے سے کوئی تجویز رکھے گی تو حکومت بات کرے گی، کسی بات پر اتفاق رائے ہو گا تو حکومت ایک موقف لے کر آئے گی۔بحث ہونا کسی بھی معاشرے میں اچھی چیز ہے، وفاقی وزیرصحت میرے لئے قابل احترام ہیں،انہوں نے 2 باتیں مبہم کیں، وفاقی وزیرصحت نے کہا 26 ویں اور 27 ویں ترمیم اچانک آئی تھی، 26ویں ترمیم پرہم ڈیڑھ ماہ مولانافضل الرحمان کے در پر بیٹھے رہے، کس طرح کہاجاسکتا ہے کہ 26 ویں ترمیم اچانک آئی، 26ویں ترمیم میں 56 ترامیم تھیں،پھر12،13پر اتفاق ہوا،آئینی بینچ کی تجویزپی ٹی آئی کی تھی،ہم متفق ہوئے تھے، 26ویں ترمیم متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی، میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کا ذکر تھا۔

راناثنااللہ نے کہا کہ باباڈیم نے ہمارے ساتھ جو سلوک کیا،ازخود نوٹس نے وزرائے اعظم کو ذلیل کیا، ہمیں 26 ویں ترمیم کا پتہ تھا،ہم نے اس کیلئے اتفاق رائے کیا، 26ویں ترمیم کیلئے ہمارے ووٹ پورے نہیں تھے، 26ویں ترمیم میں جو چیزیں رہ گئی تھیں27ویں میں پوری کرلیں، وفاقی وزیرصحت مصطفی کمال کو غلط فہمی ہوئی، مصطفی کمال کا نئے صوبوں سے تعلق نہیں،ان کا مسئلہ صرف کراچی ہے، ایم کیو ایم صرف با اختیار بلدیاتی نظام چاہتی ہے،مصطفی کمال کابینہ میں بات کریں گے تو پوچھ لیا جائے گا، صوبوں کی بات کرناجرم نہیں،آئین میں شق ہے صوبے بنائے جا سکتے ہیں، صوبوں کیلئے اگر ریفرنڈم ہونا ہے تو یہ معاملہ کابینہ میں زیربحث لایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں