سندھ ہائی کورٹ 17

سندھ ہائیکورٹ،ایف بی آر اور کسٹمز کا چھاپہ غیر قانونی قرار، ضبط شدہ سامان واپس کرنے کا حکم

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے ایف بی آر اور کسٹمز کا چھاپہ غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ضبط شدہ سامان واپس کرنے کا حکم دیا ہے ۔

گزشتہ روز سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو کراچی ایکسپورٹ پراسیسنگ زون میں ایف بی آر اور کسٹمز کے چھاپے کیخلاف درخواست کی سماعت کے دور ان درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزار کمپنی ای پی زیڈ اے کی اجازت سے تمباکو اور سگریٹ کی تیاری کا کام کررہی ہے۔ ایف بی آر نے سیلز ٹیکس فراڈ کے الزام میں چھاپہ مارا۔ قانونی درآمدات کے باوجود کسٹمز نے سگریٹ اور دیگر سامان ضبط کیا۔ ایف بی آر کے مطابق کمپنی کے گوشوارے مشکوک پائے گئے تھے۔

سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ وفاقی اداروں نے غیر قانونی تمباکو مصنوعات کی تیاری کے ذریعے ٹیکس چوری کی اطلاع پر کارروائی کی۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیئے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت ٹیکس فراڈ کی تحقیقات سے قبل کمشنر کی منظوری اور متعلقہ فرد کو موقف پیش کرنے کا موقع دینا لازمی ہے۔ ریکارڈ سے ظاہر نہیں ہوتا کہ درخواستگزار کیخلاف باقاعدہ انکوائری کی کمشنر سے منظوری حاصل کی گئی۔

سرچ وارنٹ حاصل کرتے ہوئے بھی ایف بی آر نے درخواستگزار کیخلاف زیر التوا کارروائی ثابت نہیں کی۔ مجسٹریٹ کی جانب سے سرچ کی اجازت دینا قانون کے مطابق نہیں تھا۔ چھاپے کے دوران غیر قانونی سرگرمی سامنے نہیں آئی تو کسٹمز کو طلب کرکے سامان ضبط کرلیا گیا۔ کسٹمز ایکٹ کے تحت سامان کی قانونی حیثیت سے متعلق معلومات لی جاسکتی ہیں۔ درخواستگزار کے پیش کردہ درآمدات کے دستاویزات سے بظاہر ثابت ہوتا ہے کہ تمام سامان قانونی طور پر درآمد کیا گیا تھا۔

ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد نہیں جو ثابت کرے کہ سامان اسمگل شدہ تھا۔ سرکاری اہلکار آئین کے تحت شہریوں کو حاصل حقوق کے منافی اختیارات استعمال نہیں کرسکتے۔ سرکاری اداروں کا چھاپہ، سرچ وارنٹ اور ضبطگی قانون سے متصادم ہے۔ سرچ وارنٹس اور اس کے تحت کی گئی تمام کارروائیاں کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔ ضبط شدہ سامان درخواست گزار کمپنی کے حوالے کیا جائے۔ عدالت نے چھاپہ غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ضبط شدہ سامان واپس کرنے کا حکم دیدیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں