سندھ ہائی کورٹ 15

سندھ ہائی کورٹ نے پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کی اغوا کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کردی

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائی کورٹ نے پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کی اغوا کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کردی ۔سندھ ہائیکورٹ میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کی تحفظ اور اغوا کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزار لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی۔

شادی کے بعد لڑکی کے گھر والے کاروکاری کے نام پر دھمکیاں دے رہے ہیں۔ درخواستگزار لڑکے کیخلاف تھانہ ٹنڈو باگو میں اغوا کا جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ درخواستگزاروں کو تحفظ دیا جائے اور مقدمہ خارج کیا جائے۔ والدین کے وکیل نے موقف اپنایا کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق لڑکی کی عمر 18 برس سے کم ہے۔ سندھ چائلڈ میرج رسٹرینٹ ایکٹ کے تحت کم عمری کی شادی جرم ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تحقیقات ابھی جاری ہے، عبوری چالان جمع کروایا جاچکا ہے۔

لڑکی کی عمر اور نکاح کی قانونی حیثیت کے تنازعات آئینی درخواست میں طے نہیں کئے جاسکتے۔ نکاح کی حیثیت اور کرمنل ذمہ داری کا تعین ٹرائل کورٹ شواہد کی بنیاد پر کرے گی۔ وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ کم عمری کی شادی جرم کے باوجود ازخود قابل تنسیخ قرار نہیں پاتا۔ سرکاری حکام کسی بھی فریق کو ہراساں کرنے سے گریز کریں۔ کسی بھی فریق کو جان یا آزادی کا خطرہ لاحق ہو تو مناسب تحفظ فراہم کیا جائے۔ عدالت نے مقدمہ خارج کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے درخواست نمٹادی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں