روبینہ اشرف 16

حمل و زچگی کے بعد ڈپریشن و پریگننسی بلوز حقیقی مسائل ہیں،روبینہ اشرف

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)پاکستانی شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ روبینہ اشرف نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ حمل اور زچگی کے بعد ڈپریشن اور پریگننسی بلوز حقیقی مسائل ہیں۔

حال ہی میں روبینہ اشرف نے نجی ٹی وی پروگرام میں بطور مہمان شرکت کی، جہاں انہوں نے خواتین میں حمل کے بعد ہونے والے پوسٹ پارٹم ڈپریشن پر کھل کر بات کی۔روبینہ اشرف نے کہا کہ معاشرے اور سماجی نظام کے طور پر ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حمل و زچگی کے بعد کا عرصہ اور پریگننسی بلوز حقیقی مسائل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو پہلے ان چیزوں کے بارے میں معلوم نہیں تھا کیونکہ پہلے ان کا کوئی تصور ہی نہیں تھا، کئی برسوں تک یہ سوچ رائج رہی کہ ہر عورت کا کام بچوں کو جنم دینا ہے اور یہ ایک معمول کی بات ہے، چاہے اس عمل میں اسے کتنی ہی مشکلات کا سامنا کیوں نہ ہو یا وہ ذاتی طور پر اس صورتِ حال سے کس طرح نمٹتی ہو۔اداکارہ نے کہا کہ اب لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب ایک لڑکی حاملہ ہوتی ہے تو اس کی جلد، جسم اور دیگر بہت سی چیزوں میں تبدیلیاں آتی ہیں، خوشی کے باوجود اسے شدید بے چینی اور اضطراب کا سامنا ہو سکتا ہے، جو ایک حقیقی کیفیت ہے۔

روبینہ اشرف کے مطابق اگر حاملہ خاتون کی مناسب دیکھ بھال نہ کی جائے اور اسے ضروری توجہ نہ ملے تو وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حمل سے لے کر زچگی کے بعد کے عرصے تک شوہر کی جانب سے تعاون، ہمدردی اور جذباتی سہارا انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہ عورت کیلئے ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے، اس دوران عورت کو مناسب نگہداشت اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ حمل کے دوران بیک وقت کئی ذمے داریاں نبھانا بعض اوقات اس کے لیے انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہوجاتا ہے۔

واضح رہے کہ ڈپریشن اور پریگننسی بلوز دونوں ہی دورانِ حمل یا بچے کی پیدائش کے بعد خواتین کے مزاج اور ذہنی صحت میں آنے والی تبدیلیاں ہیں۔پریگننسی بلوز ایک بہت عام اور عارضی جذباتی کیفیت ہے جو حمل کے دوران یا بچے کی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں ہارمونز کی شدید تبدیلیوں کی وجہ سے ہوتی ہے، یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک قدرتی اور عارضی جذباتی ردعمل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں