مصطفیٰ کمال 12

جعلی ادویات کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں،وزیر صحت

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر برائے صحت مصطفی کمال نے کہا کہ ملک بھر سے جعلی ادویات کے خاتمے کا تہیہ کر رکھا ہے، وزارت گزشتہ ڈیڑھ سال سے ادویات پر 2D بارکوڈ کے نفاذ کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ ان کی شناخت اور اصلیت کی تصدیق کو یقینی بنایا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادویات پر 2D بارکوڈ کے نفاذ اور اس کے ٹرائل کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس میں کیا۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ نے وفاقی وزیر صحت کو ادویات پر 2D بارکوڈ اور سیریلائزیشن کے نظام کے نفاذ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے کہا کہ 9 اکتوبر کے بعد تیار ہونے والی ہر دوا پر 2D بارکوڈ لگانا لازمی ہوگا، مقامی اور ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنیوں کو 10 اکتوبر سے تیار ہونے والی ادویات پر 2D بارکوڈ اور سیریل نمبر درج کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔ وزیر صحت نے واضح کیا کہ درآمد کی جانے والی ادویات بھی ملک بھر میں 2D بارکوڈ کے بغیر فروخت نہیں کی جا سکیں گی۔انہوں نے بتایا کہ ڈریپ کی جانب سے دوا ساز کمپنیوں کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی تربیت بھی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ نئے نظام پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا جا سکے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ نئے نظام کے تحت عام شہری موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے ادویات کی اصلیت یا نقلی ہونے کی تصدیق کر سکیں گے، اس ایپ کے ذریعے دوا کی قیمت اور تاریخِ تنسیخ (ایکسپائری ڈیٹ)کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔انہوں نے کہا کہ فارمیسیز، میڈیکل سٹورز اور عام شہری اس موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے ادویات کی تصدیق کر سکیں گے جس سے جعلی ادویات کی روک تھام اور ادویات کی نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔اجلاس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ)اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی)کے چیف ایگزیکٹو افسران نے شرکت کی۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ 2D بارکوڈ کا نظام ویٹرنری اور پولٹری ادویات پر بھی نافذ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں میں استعمال ہونے والی ادویات بھی انسانی صحت سے براہِ راست جڑی ہوئی ہیں اس لیے ان کی نگرانی اور معیار کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں