طاہر حسین اندرابی 19

ثالثی سے پیچھے نہیں ہٹے، مفاہمتی یادداشت اب بھی قابلِ عمل ہے، دفتر خارجہ

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران امریکا تنازع کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان آبنائے ہرمز سے تجارت اور تیل کی بآسانی ترسیل پر یقین رکھتا ہے، پاکستان ثالثی سے پیچھے نہیں ہٹا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ ایران اور امریکا کےدرمیان دوبارہ کشیدگی پرتشویش ہے، پاکستان موجودہ علاقائی صورتحال پرگہری نظر رکھے ہوئے ہے، پاکستان نےفریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پرعملدرآمد جاری رہنا چاہئے، پاکستان مسائل کےحل کیلئے مذاکرات پریقین رکھتا ہے، ایران امریکا تنازع کسی کےمفاد میں نہیں،پاکستان آبنائے ہرمزسےتجارت اورتیل کی باآسانی ترسیل پریقین رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمزمیں غیرمعمولی صورتحال سے گلوبل ساؤتھ کے ممالک بھی متاثر ہورہے ہیں، تمام تنازعات کاحل مذاکرات اورسفارت کاری میں مضمر ہے، اس تاثر میں کوئی صداقت نہیں کہ پاکستان نے ثالثی کے عمل سے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں، اگرچہ موجودہ حالات کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم بالاخر فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے، اگرچہ اس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو بعض چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم پاکستان تمام متعلقہ فریقوں کو تشدد ختم کرنے اور 22 جون 2026 کے پاک قطر مشترکہ اعلامیے اور مفاہمتی یادداشت کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔

ترجمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے خصوصاً ترقی پذیر ممالک شدید متاثر ہو رہے ہیں، پاکستان عالمی توانائی کی فراہمی، تجارت، خوراک کے تحفظ اور دیگر اقتصادی شعبوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے بخوبی آگاہ ہے، امید ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جلد معمول پر آئے گی اور بحری جہازوں کی محفوظ، آزاد اور بلا تعطل آمدورفت یقینی بنائی جائے گی۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے برقرار رکھے ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ اور تنازعات کے پرامن حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں انسانی ضروریات پر امدادی جواب دینے کی کوشیش کر رہا ہے، پاکستان انسانی ضروریات پر امدادی سامان کے 45 ٹرک روانہ کر چکا ہے، تاہم افغانستان ان کو اجازت دینے سے انکاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر ابھی تک کوئی برف نہیں پگھلی، جب تک افغانستان دہشت گردوں اور دہشت گردی کی پشت پناہی ختم نہیں کرتا یہ برف نہیں پگھل سکتی، ایس سی او کا رکن بننے کے لیے افغانستان کے رکن ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات ہونے چاہئیں۔

جاپان اور ہندوستان کے ساتھ جوائنٹ سٹیٹمنٹ میں پاکستان کی جانب سے کراس بارڈر ٹیررززم کے الزام پر دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے چاپان کے سفیر کو ڈی مارش جاری کیا ہے، پاکستان نے سفارتی سطح پر یہ معاملہ چاپان کے ساتھ اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چاپان کی پاکستان سے متعلق کوئی پالیسی شفٹ نہیں ہے، ہندوستان ہمیشہ اپنے مشترکہ اعلامیہ میں اس بات کو شامل کرنے پر زور دیتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں پاکستان اور پرتگال کے درمیان سالانہ دوطرفہ مشاورت بھی منعقد ہوئی، دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔

ایک سوال کے جواب میں طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ہر سطح پر رابطے موجود ہیں اور پاکستان ملک میں موجود تمام چینی شہریوں اور عملے کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔

انہوں نے برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمے سے متعلق سوال پر کہا کہ پاکستان اس جرم کی سخت مذمت کرتا ہے، تاہم یہ برطانیہ کا اندرونی معاملہ ہے، شبیر حسین برطانوی شہری ہیں، ان کی پرورش بھی برطانیہ میں ہوئی، اس لیے حکومت پاکستان کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنماؤں کے خلاف بھارتی قومی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے چارج شیٹ دائر کیے جانے کی بھی مذمت کی اور کہا کہا کہ بھارت سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات اور جعلی ٹرائلز کے ذریعے حریت قیادت کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم کشمیری عوام کو ان کے حق خودارادیت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلگام واقعہ کے حوالے سے بھارت اب تک کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا، حالانکہ پاکستان نے تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تھی، لیکن بھارت سیاسی نعرے بازی اور سنسنی پھیلانے میں مصروف ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں