پشاور(رپورٹنگ آن لائن)وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا شفیع جان نے صوبائی وزیر برائے اوقاف عدنان قادری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ہدایت پر صوبائی حکومت کے مختلف محکموں کی کارکردگی عوام کے سامنے لانے کے لیے باقاعدگی سے ہفتہ وار پریس کانفرنسوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی مسلسل پریس کانفرنسوں کی مثال وفاقی حکومت یا دیگر صوبوں میں نہیں ملتی کیونکہ ان کے پاس عوام کو بتانے کے لیے کوئی نمایاں کارکردگی موجود نہیں،انہوں نے کہا کہ متفقہ دینی مدارس بل جلد منظوری کے لیے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس سے مدارس کو درپیش بیشتر مسائل حل ہوں گے،شفیع جان نے کہا کہ شہداء سب کے سانجھے ہوتے ہیں اور شہداء ہمارا فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو اس نوعیت کا بیان نہیں دینا چاہیے تھا تاہم ان کی حب الوطنی پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے پارلیمنٹ سے متعلق بیان کی تائید کرتا ہوں کیونکہ پارلیمنٹ محض ربڑ اسٹیمپ بن چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، مولانا فضل الرحمان کے خلاف پریس کانفرنسیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ اب اس معاملے کو یہیں ختم کرکے آگے بڑھنا چاہیے اور اس حوالے سے پریس کانفرنسوں کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے،وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج امن و امان کی صورتحال کا درپیش ہے، تاہم صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191 ارب روپے کر دیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سی ٹی ڈی اور پولیس کی استعداد کار میں اضافے کے لیے 31 ارب روپے کے خصوصی پیکیج کی بھی منظوری دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اور پرامن خیبرپختونخوا کا قیام صوبائی حکومت کا غیر متزلزل عزم ہے،شفیع جان نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ پر سب بات کرتے ہیں لیکن پنجاب حکومت کی جانب سے 11 ارب روپے کے جہاز کی خریداری پر کوئی بات نہیں کرتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو بانی چیٔرمین عمران خان کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہو جائیں گے۔ گزشتہ روز پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں 5 اگست کے حوالے سے مؤثر اور مضبوط احتجاجی لائحہ عمل پر اتفاق کیا گیا ہے اور بھرپور احتجاجی تحریک کی تیاری جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت احتجاجی تحریک کا شیڈول جلد باضابطہ طور پر جاری کرے گی۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان بنیادی قانونی اور انسانی حقوق سے محروم ہیں اور گزشتہ سات ماہ سے قیدِ تنہائی میں ہیں۔ انہیں ذاتی معالج تک رسائی، اپنے بیٹوں سے ٹیلی فون پر گفتگو اور وکلا سے مناسب ملاقات کی سہولت بھی فراہم نہیں کی جا رہی، جو بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔









