چین 15

بزرگوں اور زچہ و بچہ کی دیکھ بھال، اور طبی علاج سمیت عوامی صحت کے لیے چین کی آئندہ پانچ سال کی اہم منصوبہ بندی

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کی نائب ڈائریکٹر گو یئن ہونگ نے چینی ریاستی کونسل کے دفتر اطلاعات میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ چین نے دنیا کا سب سے بڑا طبی خدمات کا نظام قائم کر لیا ہے۔

ملک بھر میں طبی و صحت کے اداروں کی تعداد 11 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 90 فیصد سے زیادہ آبادی 15 منٹ کے اندر قریبی طبی خدمات تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ پانچ برسوں کے دوران چین اعلیٰ معیار اور مؤثر مربوط طبی و صحت کی خدمات کے نظام کو مزید بہتر بنائے گا، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے گھروں کے قریب ہی معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔چین، زچگی اور بچوں کی پیدائش سے متعلق معاون پالیسیوں کے نظام کو بھی مزید بہتر بنائے گا۔

گزشتہ سال کی بنیاد پر مزید ایک ہزار کمیونٹی ہیلتھ سروس سینٹرز اور ٹاؤن شپ ہیلتھ کلینکس میں بچوں کے علاج کی خدمات فراہم کی جائیں گی۔ توقع ہے کہ رواں سال کے اختتام تک 95 فیصد سے زیادہ ٹاؤن شپ ہیلتھ کلینکس اور کمیونٹی ہیلتھ سروس سینٹرز بچوں کے علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ڈائریکٹر لے ہائی چھاؤ نےپریس کانفرنس میں بتایا کہ ” پندرہویں پانچ سالہ منصوبے” کے دوران،چین میں اوسط متوقع عمر 2025 کے 79.25 سال سے بڑھ کر 80 سال تک پہنچنے کی توقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں