علی امین گنڈاپور 18

بانی پی ٹی آئی کی جیل سے رہائی پر سب متفق تھے، علی امین کا انکشاف

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)سابق وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے انکشاف کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل سے رہائی پر سب متفق تھے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ 5 اکتوبر کے بعد ہمیں ہر چیز جو چاہیے تھی وہ مل رہی تھی، بانی کی طرف سے پیغام آیا تھا کہ حکومت سے بات چیت کے لیے کمیٹیاں بنائیں، پارٹی کے بڑوں نے مجھ سے رابطہ کر کے کہا کہ حکومت سے کہیں کمیٹی بنائیں، حکومت سے رابطہ کر کے میں نے کمیٹی بنانے کا کہا تو میری بات مان لی گئی۔

انھوں نے کہا کہ میں نے کمیٹی کی پہلی ہی میٹنگ میں کہا کہ ہمیں جمہوریت کی طرف جانا ہوگا دشمنی نہیں، ایاز صادق اور باقی سب نے کہا کہ ہم متفق ہیں بانی پی ٹی آئی کو رہا ہونا چاہیے، کمیٹی کے تمام ممبرز اس بات پر متفق تھے کہ عمران خان کو رہا ہونا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ کمیٹی کو ایاز صادق چیئر کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ اس کمیٹی میں ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار، رانا ثنا ء اللہ، سینیٹر عرفان صدیقی، راجہ پرویز اشرف، سید نوید قمر، خالد مقبول صدیقی، عبدالعلیم خان اور چوہدری سالک حسین تھے۔

ایاز صادق نے کہا عمران خان کی رہائی پر ہم متفق ہیں کہ انھیں رہا ہونا چاہیے۔گنڈاپور کے مطابق وہاں موجود کمیٹی کے تمام ممبران نے کہا کہ ہاں عمران خان کو رہا ہونا چاہیے، اور ان میں رانا ثنا اللہ بھی تھے، ایک ایک بندے نے اس پر بات کی اور کہا کہ ہم متفق ہیں کہ انھیں رہا ہونا چاہیے اور یہ جو جیلوں میں ڈالنے والا کام ہے یہ غلط ہے۔انھوں نے کہا کہ پھر ہوا یوں کہ دوبارہ عمران خان کی جانب سے پیغام آیا کہ اگر حکومت 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن نہیں بناتی تو مذاکرات ختم کر دو، تو ظاہر ہے کہ یہ سلسلہ ختم ہونا تھا پھر، ایسا تو نہیں ہو سکتا ہے کہ جرگہ ہو رہا ہو اور یہ کہا جائے کہ پہلے ایک فریق خود پر ایف آئی آر کر والے، تو 9 مئی تو ان پر ایک طرح سے ایف آئی آر ہے، تو ظاہر ہے ختم ہونا تھا کمیٹی نے۔

علی امین نے کہا دراصل بانی پی ٹی آئی سے جن کی ملاقاتیں ہو رہی تھیں وہ اپنے بیانیے لے کر گھوم رہے تھے، بانی کو جانے والے اور آنے والے پیغام سے جتنا نقصان ہوا اس سے زیادہ کسی چیز سے نہیں ہوا، وہ ملنے والوں کو پیغامات دیتے تھے، باہر ہمیں جو بتایا جاتا تھا وہ پورا نہیں ہوتا تھا، بانی کے پیغامات کمی بیشی، توڑ مروڑ کر پہنچتے تھے جس سے بڑا نقصان ہوا۔انھوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جب باہر آئیں گے تو ایسے لوگوں کو اپنے ساتھ نہیں رکھیں گے، بانی پی ٹی آئی کو اندازہ جیل میں بھی ہو رہا ہے باہر آ کر وہ کسی کو ساتھ نہیں رکھیں گے، وہ لوگ بھی جانتے ہیں کہ بانی باہر آئے تو ان کا حال کیا ہوگا، اسی لیے ایسے لوگ چاہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی باہر نہ آئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں