اقوام متحدہ (نیوز ڈیسک) جون 2024 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے چین کی پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے ہر سال 10 جون کو “تہذیبوں کے درمیان مکالمے کے عالمی دن” کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ رواں سال اسی مناسبت سے دوسرا عالمی دن منایا گیا۔
اس موقع پر نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں چین کے مستقل مشن کی جانب سے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں، اقوامِ متحدہ کے حکام اور دیگر مہمانوں سمیت تقریباً 300 افراد نے شرکت کی۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے تحریری پیغام میں کہا کہ تہذیبوں کے درمیان مکالمے کے ذریعے اتحاد و یکجہتی کو فروغ دیا جانا چاہیے اور ایک زیادہ منصفانہ اور پُرامن دنیا کی تعمیر کے لیے مشترکہ کوششیں کی جانی چاہئیں۔
تقریب کے شرکاء نے چین کی جانب سے پیش کردہ گلوبل سویلائزیشن انیشی ایٹو اور تہذیبی مکالمے کے فروغ کے لیے اس کی کاوشوں کو سراہا۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان تبادلۂ خیال کے ذریعے اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکتا ہے اور مشترکہ طور پر ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، یونیسکو میں چین کے مستقل مشن اور یونیسکو سلک روڈ پروجیکٹ نے پیرس میں ایک خصوصی تقریب کی مشترکہ میزبانی کی۔ اس کے علاوہ، ویانا میں چین کے مستقل مشن، ویانا میں اقوام متحدہ کے دفتر اور نیدرلینڈ میں چینی سفارت خانے نے بھی بین الاقوامی عدالت انصاف کے ہیڈکوارٹرز پیس پیلس میں اس دن کی مناسبت سے خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا۔









