لاہور (رپورٹنگ آن لائن) نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط اور قرضوں، سود کی اقساط کے بوجھ میں قوم کے لیے کوئی خوشخبری نہیں ہوگی،بجٹ کو تاریخی برق رفتاری سے قوم پر مسلط کردیا جائے گا، حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے نہیں، عوام کا خون نچوڑنے کا اختیار ہے،سیاسی اور اقتصادی بحران ملک میں سیاسی احتجاج کا درجہ حرارت بڑھانے کا سبب بنے گا، بجٹ کے بعد حکومت کو حقیقی معنوں میں عوامی احتجاج کا سامنا ہوگا، بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ معیشت کے ہر سیکٹر کو تباہ کررہا ہے۔
لیاقت بلوچ آئندہ بجٹ 2024-25 پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت کے پاس موجودہ بحرانی کیفیات میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے کچھ نہیں، کم از کم یہ اقدامات تو کرسکتی ہے کہ خودانحصاری، قومی وسائل پر اعتماد اور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ پر عمل درآمد کے لیے سپریم اپیلٹ بنچ سے اپیل واپس لے اور فیصلہ کی روشنی میں سود کے خاتمہ اور معاشی استحکام کیلیے روڈ میپ دے۔
وزیراعظم شہباز شریف اپنی حکومت کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ بند کریں اور آئینِ پاکستان کے تقاضوں کو پورا کریں اور آئینِ پاکستان کے تقاضوں کو پورا کریں۔لیاقت بلوچ نے چمن (بلوچستان) میں حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی، صوبائی حکومتوں اور سیکیورٹی فورسز کی بڑی ناکام ہے کہ طویل مدت سے تاجر برادری اور عوام سراپا احتجاج ہیں لیکن حکومت اور فورسز مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ نہیں۔ پاک-افغان تعلقات کو سدھارنے، پائیدار بنانے کی بجائے بگاڑا جارہا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں استحکام خطہ میں امن کے لیے ناگزیر ہے۔ سفارتی محاذ پر ناکامی دہشت گردی کے فروغ کی سہولت کاری ہے۔لیاقت بلوچ نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت خود بلدیاتی کام کرنے کی بجائے پنجاب کے عوام کے بلدیاتی حقوق بحال کرے اور پنجاب میں بلاتاخیر بااختیار بلدیاتی نظام اور انتخاب کرائے جائیں۔
پنجاب حکومت نمائشی اور اعلاناتی طرزِ حکومت چھوڑے اور عوام کے مسائل کے حل کے ٹھوس اقدامات کرے۔ پنجاب میں صحافیوں کے احتجاج کے باوجود صحافت پر قدغنوں اور حکومتی آمرانہ روِش کو مسلط کرنے والا کالا قانون مسلط کردیا گیا ہے۔ گورنر پنجاب کے اِس موقع پر غائب ہونے نے بھی پی پی پی کے دوہرے کردار کو عیاں کردیا ہے۔ متنازع قانون سازی حکومت کو مہنگی پڑے گی۔









