اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ ہوا تو پاکستان نے ثالثی میں بھرپور کردار ادا کیا، 47 سال بعد ہم نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر بٹھا دیا۔
وفاقی دارالحکومت میں پاکستان علماء کونسل کے زیرِ اہتمام چھٹی بین الاقوامی پیغام اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان 1979ء کے بعد پہلی بار براہ راست مذاکرات ہوئے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے امریکا ایران سے کہا کہ آپ ساتھ بیٹھیں، ہم سے کہا گیا کہ آپ بھی ہمارے ساتھ بیٹھیں۔
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ایران کہتا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اس سے پہلے بالواسطہ مذاکرات ہوتے رہے، پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران کے درمیان اسلام آباد میں 21 گھنٹے مذاکرات ہوئے۔
پیغام اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی پاسداری کے لیے ہماری جان بھی حاضر ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ اہم سنگ میل ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارت پہلگام واقعے کا بے بنیاد الزام لگا کر پاکستان پر حملہ آور ہوا، پاکستانی قوم نے معرکۂ حق میں مثالی اتحاد کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سربراہی میں پاک افواج نے فتح حاصل کی، پاکستان کو کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔
نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ دنیا کو آج پیچیدہ چیلنجز درپیش ہیں، ہماری اجتماعی کوششوں سے غزہ میں جنگ بندی ممکن ہوئی، فلسطین کی آزادی کے لیے صدر ٹرمپ سے بات کی، جنگ بندی کے نتیجے میں فلسطین میں خونریزی رکی نہیں تو اس میں کمی ضرور آئی ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کا حل ہماری اولین ترجیح ہے، مسئلہ کشمیر کے حل اور آزادی تک خطے میں کشیدگی برقرار رہے گی۔








