اعظم نذیر تارڑ 15

28ویں آئینی ترمیم فوری زیر غور نہیں ،کوئی بھی آئینی ترمیم سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ہی آئیگی ‘ وزیرقانون

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ وکلا ء کی پیشہ ورانہ تربیت، قانونی تعلیم کے معیار میں بہتری اور انصاف کی موثر فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے،وکلا ء کے لیے جامع ہیلتھ انشورنس پالیسی متعارف کرانے پر کام جاری ہے، پنجاب اور وفاقی حکومت بارز کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہیں،آئینی ترامیم جلد بازی میں نہیں بلکہ مشاورت کے بعد ہی آنی چاہئیں،28ویں آئینی ترمیم فوری زیر غور نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے پنجاب بار کونسل میں لائرز ایجوکیشن اکیڈمی کی افتتاحی تقریب اور بار ووکیشنل کورس کے کامیاب شرکا ء میں اسناد تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا ۔تقریب میں ممبر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان احسن بھون، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل پیر محمد مسعود چشتی، وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل خواجہ قیصر بٹ، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل فخر حیات اعوان، ممبران پاکستان بار کونسل حفیظ الرحمن چودھری، طاہر نصراللہ وڑائچ، ثاقب اکرم، سیکرٹری پنجاب بار کونسل رفاقت علی سوہل، چیئرپرسن لیگل ایجوکیشن کمیٹی سمیرا حسین، چیئرمین سیمینار اینڈ سمپوزیم کمیٹی چوہدری احتشام انور، سابق وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل فرحان شہزاد، سابق چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی حاجی افضل دھرالہ، ممبر پنجاب بار کونسل عامر سعید رانا سمیت پنجاب بار کونسل کے اراکین، مختلف کمیٹیوں کے عہدیداران اور وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

وزیر قانون نے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان بار کونسل میں ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن کا قیام ایک اہم اصلاحی قدم ہے،لیگل ایجوکیشن کمیٹی کے قیام میں مشکلات ضرور پیش آئیں تاہم قانونی تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ وکالت صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری ہے اس لیے وکلا ء کو اپنے اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا اور اختلافات کو ادارہ جاتی فورمز پر حل کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وکلا ء اور ان کے اہل خانہ کے لیے جامع ہیلتھ انشورنس پالیسی پر کام جاری ہے،پنجاب بارکونسل وکلا ء کے لیے بہتر اقدامات کر رہی ہے، وکیل اور وکیل کی فیملی کے علاج کے لیے ہماری پالیسی بن رہی ہے، کینسر،گردے، جگر ، دل کی بیماریوں کے لیے وکلا ء کا سرکاری اور پرائیوٹ ہسپتالوں میں علاج ہوگا، پنجاب کی حد تک 135 کروڑ روپے بار ایسوسی ایشنز کو دیا گیا ہے، بار ووکیشنل کورس کے لیے 2 کروڑ روپے دینے کا اعلان کرتا ہوں۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے سات رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو امیدواروں کے انٹرویوز کے بعد اپنی سفارشات جوڈیشل کمیشن کو پیش کرے گی۔سول اور ایڈیشنل سیشن ججز کے لیے امتحان لیا جاتا ہے، ہائیکورٹ کے ججز کے لیے انٹرویو کیوں نہ ہوں؟ ججز کی تعیناتی کا عمل میرٹ پر ہونا چاہیے، پہلی بار ججز کی کارکردگی جانچنے کے لیے آئینی نظام لا رہے ہیں، ججز ایولیوایشن کمیٹی ہر سال کے آخر میں ججز کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔

28ویں آئینی ترمیم فوری طور پر زیر غور نہیں تاہم جب بھی کوئی آئینی ترمیم لائی جائے گی وہ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ہی ہوگی،آئینی اصلاحات قومی اتفاق رائے سے ہونی چاہیے۔چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل فخر حیات اعوان نے کہا کہ 2018 سے بار ووکیشنل کورس لازمی قرار دیا جا چکا ہے اور پنجاب بار کونسل اب ایچ ای سی کی تصدیق کے بغیر کسی بھی وکیل کو لائسنس جاری نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بنوولنٹ فنڈ کی رقم تین لاکھ سے بڑھا کر چھ لاکھ روپے کر دی گئی ہے اور وکلا ء کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بار ووکیشنل کورس کے نمایاں کامیاب شرکا ء میں اسناد تقسیم کیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں