سندھ ہائی کورٹ 11

19 سالہ لڑکی سے زیادتی کیس، عمر قید پانے والا ملزم بری

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ نے 19 سالہ لڑکی سے زیادتی کے الزام میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم انور کی نظرثانی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے شک کا فائدہ دے کر بری کردیا اور سجاول کی ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے کیس کے ریکارڈ اور دستیاب شواہد کا جائزہ لیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے کی ایف آئی آر تاخیر سے درج کرائی گئی، جبکہ متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ بھی فوری طور پر نہیں کرایا گیا بلکہ میڈیکل تقریباً 6 ماہ بعد ہوا، جس سے استغاثہ کے مقدمے پر شکوک پیدا ہوئے۔ریکارڈ کے مطابق ملزم انور پر الزام تھا کہ اس نے عبدالرزاق کی 19 سالہ بھانجی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور معاملہ سجاول کی ماتحت عدالت میں زیرسماعت رہا۔سجاول کی ماتحت عدالت نے 25 جولائی 2025 کو مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم انور کو عمر قید کی سزا دی تھی۔

عدالت نے ملزم پر 2 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف ملزم نے اعلیٰ عدالت سے رجوع کیا اور نظرثانی اپیل دائر کی، جس میں ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کو چیلنج کیا گیا تھا۔سندھ ہائیکورٹ نے اپیل کی سماعت کے دوران مقدمے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور طبی معائنے میں غیر معمولی تاخیر کو اہم قرار دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں موجود شکوک و شبہات کا فائدہ ملزم کو دیا جانا چاہیے۔عدالت نے نظرثانی اپیل منظور کرتے ہوئے ملزم انور کو بری کردیا اور سجاول کی ماتحت عدالت کی جانب سے 25 جولائی 2025 کو سنائی گئی عمر قید اور جرمانے کی سزا کالعدم قرار دے دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں