احسن اقبال 10

12 سے 15 صوبے بنادیں، رحیم یارخان سے اٹک تک پنجاب کو لاہور سے نہیں چلایا جاسکتا ، پورا صوبہ سندھ بھی کراچی سے کنٹرول کرنا ممکن نہیں ، احسن اقبال

لاہور، اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ مسائل کا حل یہی ہے کہ 160با اختیار ضلعی حکومتیں بنادیں یا 12سے 15 صوبے بناد ئیے جائیں،ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ جتنی بڑی آبادی ہے بدین سے گھوٹکی تک پورا صوبہ سندھ کراچی سے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا، رحیم یارخان سے اٹک تک پنجاب کو لاہورسے نہیں چلایا جاسکتا،

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو ڈی آئی خان سے چترال تک پشاورسے چلائیں، بلوچستان کو پسنی سے ژوب،قلعہ سیف اللہ تک کوئٹہ سیکرٹریٹ سے چلائیں،وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ہمارے ہمسایہ ملک میں1947 کے بعد درجن نئے صوبے بن چکے ہیں، اس مرکزیت کے ساتھ آبادی کا دباؤ ہے ، سسٹم اوورلوڈڈ ہے لہٰذا انتظامی طور پرسسٹم میں توازن کی ضرورت ہے ،انہوں نے مزید کہاکہ متنازع بات نہیں کرنا چاہتا، سندھ اسمبلی کا استحقاق ہے وہ اپنی قرارداد پاس کرسکتی ہے ،

پاکستان کے عوام کو اچھی تعلیم، صحت، صفائی اور صاف پانی چاہیے ، یہ تمام ایشوزکسی سیاسی نعرے یا سیاسی جماعت کے مفاد سے بڑے ہیں،مزید کہا کہ سسٹم ڈلیور نہیں کررہا، ہر صوبے کو تین حصوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے ۔ جائزہ کمیٹی بنا کر قومی و سیاسی بحث شروع کی جائے ، نئے صوبوں کے لیے سیاسی اتفاق رائے ناگزیر ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے انتظامی ڈھانچہ فرسودہ اور انتظامی یونٹ ضروری قرار دے دئیے ، وزیراعظم کے مشیر رانا احسان افضل خان نے کہاکہ فی الحال نہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس پر کوئی فیصلہ ہوا ہے نہ ہی کسی جائزہ کمیٹی کا قیام زیر غور ہے ۔ احسن اقبال نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے کالا شاہ کاکو کیمپس کے دورے کے موقع پر فیکلٹی اور انتظامیہ سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ قوموں کے مستقبل کا فیصلہ اب کلاس رومز اور لیبارٹریوں میں ہوتا ہے ، جامعات کو قومی تھنک ٹینکس کا کردار ادا کرنا چاہیے ،

تحقیق کو تجارتی بنیادوں پر استوار کر کے ملک کی معاشی ترقی کا پہیہ تیز کرنا ہوگا۔ انہوں نے جامعات پر زور دیا کہ وہ تحقیق کے لیے مخصوص ’’آفس ٹائمنگز‘‘ کا پرانا تصور ختم کریں اور اپنی لیبارٹریاں اور لائبریریاں 24 گھنٹے کھلی رکھیں، مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کا زوال واضح مثال ہے کہ جو وقت کے ساتھ خود کو نہیں بدلتے ، وہ مٹ جاتے ہیں، جو علم پہلے ایک دہائی میں پرانا ہوتا تھا، وہ اب محض 10 دن میں متروک ہو جاتا ہے ،

انہوں نے طلبا کو ’’فیک نیوز‘‘ اور ’’پولرائزیشن‘‘کے خطرات سے خبردار کیا ، قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے درمیان سیاسی اختلافات ہو سکتے ہیں ،سیاسی پسند مختلف ہو سکتی ہے لیکن ہمارا حتمی پتہ اور شناخت صرف پاکستان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں