کراچی(رپورٹنگ آن لائن)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے ملک میں مہنگائی، معاشی مشکلات اور عوام کی گرتی ہوئی قوتِ خرید پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی ایم اور موجودہ حکمرانوں کی معاشی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 10 اپریل 2022 کے بعد مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے باعث عام شہریوں کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوگیا ہے۔اپنے ویڈیو پیغام میں حلیم عادل شیخ نے عمران خان کے دورِ حکومت اور بعد کے معاشی حالات کا موازنہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ڈالر، پیٹرول، بجلی، گیس اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے نے عوام پر شدید مالی دباؤ ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتِ حال میں عام آدمی کے لیے گھر کا بجٹ چلانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔حلیم عادل شیخ کے مطابق 10 اپریل 2022 کے بعد مجموعی مہنگائی میں 150 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ غربت کی شرح 48 فیصد اور بے روزگاری 7.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے دور میں امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 178 روپے تھی،
جو ان کے بیان کے وقت 280 روپے تک پہنچ چکی تھی۔پی ٹی آئی سندھ کے صدر نے پیٹرول کی قیمت 150 روپے سے بڑھ کر 382 روپے اور ڈیزل کی قیمت 155 روپے سے بڑھ کر 386 روپے فی لیٹر ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ ان کے مطابق معاشی مشکلات کے باعث ملکی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی اور صنعتی شعبے کو بھی نقصان پہنچا۔حلیم عادل شیخ نے بنیادی اشیائے خورونوش اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ 20 کلو آٹے کا تھیلا 1,150 روپے سے بڑھ کر 3,500 روپے تک پہنچ گیا، جبکہ دودھ کی قیمت میں 84 فیصد، باسمتی چاول میں 118 فیصد اور مختلف دالوں کی قیمتوں میں 96 سے 100 فیصد تک اضافے کا دعویٰ کیا۔انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی بوری کی قیمت 650 روپے سے بڑھ کر 1,550 روپے اور سریے کی قیمت 190 روپے سے بڑھ کر 320 روپے فی کلو تک پہنچنے سے تعمیراتی شعبے پر دباؤ بڑھا ہے۔
پی ٹی آئی سندھ کے صدر نے دعویٰ کیا کہ تمام ٹیکسز سمیت بجلی کا فی یونٹ نرخ 22 روپے سے بڑھ کر 60 روپے تک پہنچ گیا، جبکہ گھریلو صارفین کے گیس کے ماہانہ بل 800 روپے سے بڑھ کر 6 ہزار روپے تک ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق ایل پی جی سلنڈر کی قیمت بھی 2,400 روپے سے بڑھ کر 6 ہزار روپے ہوگئی ہے۔زراعت کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوریا کھاد کی بوری کی قیمت 1,900 روپے سے بڑھ کر 4,750 روپے اور ڈی اے پی کھاد کی قیمت 9 ہزار روپے سے بڑھ کر 16 ہزار روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتیں کسانوں کے لیے مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔حلیم عادل شیخ نے موٹر سائیکلوں، گاڑیوں، ادویات اور تعلیمی اخراجات میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق 70 سی سی موٹر سائیکل کی قیمت ایک لاکھ روپے سے بڑھ کر ایک لاکھ 58 ہزار روپے اور آلٹو گاڑی کی قیمت 13 لاکھ روپے سے بڑھ کر 30 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بنیادی ادویات کی قیمتوں میں 150 سے 250 فیصد تک اضافہ ہوا، جبکہ درسی کتب کی قیمتیں بھی 100 سے 150 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے باعث کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے علاج اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔حلیم عادل شیخ نے اپنے بیان میں عمران خان کی قید، ملاقاتوں اور طبی سہولتوں سے متعلق امور پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ عوامی مینڈیٹ کے حوالے سے بھی سنگین تحفظات پائے جاتے ہیں۔انہوں نے فیصلہ سازوں پر زور دیا کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور سیاسی اختلافات کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام حاصل کرنا مشکل ہے۔پی ٹی آئی سندھ کے صدر نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے، ان کے بقول عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور ملک کی معاشی و سیاسی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے باضابطہ مذاکرات شروع کیے جائیں۔









