سعید غنی 9

کھیلوں پر سرمایہ کاری خسارہ نہیں، مستقبل کے لیے سرمایہ کاری ہے، سعید غنی

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) صوبائی وزیر محنت، افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے کھیلوں کے فروغ کے لیے بھرپور توجہ دی ہے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری بھی کی ہے، تاہم ابھی مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کے لیے تعلیم کے ساتھ کھیلوں کی سرگرمیاں بھی انتہائی ضروری ہیں، کیونکہ کھیل نہ صرف جسمانی صحت بلکہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز این ای ڈی یونیورسٹی کراچی میں لوک سہائتا کی 54ویں قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ 2026 کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں پاکستان ایتھلیٹک فیڈریشن کے چیئرمین اکرم ساہی، ایڈیشنل آئی جی پولیس کراچی آزاد خان، چیئرمین لوک سہائتا پیر محمد شاہ، سیکریٹری اسپورٹس سندھ اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔سعید غنی نے کہا کہ انہیں قومی سطح کی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے انعقاد پر خوشی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی تقریب میں شرکت کرنا تھی، تاہم بیرون ملک روانگی کے باعث انہوں نے یہ ذمہ داری انہیں سونپی۔

انہوں نے ایونٹ کے کامیاب انعقاد پر لوک سہائتا کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر بھی کھیلوں میں دلچسپی رکھتے ہیں اور انہیں جہاں بھی کھیلوں کی تقریبات میں مدعو کیا جاتا ہے، وہ خوشی سے شرکت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ بچوں کو تعلیمی میدان میں آنے کے ساتھ ہی کھیلوں میں حصہ لینے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں، تاکہ ان کی صلاحیتوں کو ابتدائی عمر ہی سے پروان چڑھایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے کھیلوں میں کامیابی حاصل کرنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ ارشد ندیم نے جیولن تھرو میں ملک کا نام روشن کیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مناسب مواقع اور سرپرستی ملنے پر پاکستانی کھلاڑی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ کھیلوں کو صرف ہاکی اور کرکٹ تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ ایتھلیٹکس سمیت دیگر کھیلوں کو بھی یکساں توجہ دینی چاہیے۔سعید غنی نے کہا کہ انہیں مختلف وزارتوں میں کام کرنے کا موقع ملا اور انہوں نے ہر جگہ کھیلوں کے فروغ کے لیے اقدامات کرنے کی کوشش کی۔ ماضی میں مختلف سرکاری اداروں کی اپنی کھیلوں کی ٹیمیں ہوا کرتی تھیں، لیکن اب متعدد اداروں میں یہ سلسلہ محدود ہوگیا ہے۔ جب کھیلوں کی ٹیمیں ختم کرنے کی وجوہات دریافت کی گئیں تو بعض اداروں نے مالی خسارے کا جواز پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ ان کا مؤقف ہے کہ اگر کسی ادارے کو خسارے کا سامنا ہے تو بھی کھیلوں اور کھلاڑیوں کی سرپرستی کو ختم نہیں کرنا چاہیے۔ کھیلوں پر خرچ ہونے والی رقم کو خسارہ سمجھنے کے بجائے مستقبل کے لیے سرمایہ کاری تصور کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس سے نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں اور ملک میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔

صوبائی وزیر نے چیئرمین لوک سہائتا پیر محمد شاہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سرکاری ذمہ داریوں کے ساتھ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے بھی محنت کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چیمپئن شپ میں شریک تمام ایتھلیٹس بھرپور انداز میں مقابلوں میں حصہ لیں گے اور مستقبل میں قومی و بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کریں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین لوک سہائتا پیر محمد شاہ نے چیمپئن شپ میں شریک تمام کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے بتایا کہ نو سال کے طویل وقفے کے بعد قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ منعقد کی جارہی ہے، جس کے باعث کراچی ملک بھر سے آنے والے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کا مرکز بن گیا ہے۔

انہوں نے دیگر شہروں اور صوبوں سے آنے والے کھلاڑیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کراچی میں ان کا قیام یادگار ثابت ہوگا اور انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے بھرپور مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مقابلے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور انہیں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کے لیے تیار کرنے میں مدد دیتے ہیں۔پیر محمد شاہ نے کہا کہ لوک سہائتا اس چیمپئن شپ کو ”ایک قوم، ایک میدان، ایک پاکستان” کے سلوگن کے تحت منعقد کررہا ہے، جس کا مقصد کھیلوں کے ذریعے قومی یکجہتی، باہمی ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ دینا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لوک سہائتا کے پیٹرن ان چیف اور سابق چیف جسٹس آغا رفیق نے کہا کہ یہ چیمپئن شپ نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیلنٹ کو تلاش کرکے اسے آگے بڑھانا اور کھیلوں کے میدان میں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ چیمپئن شپ میں شریک نوجوان مستقبل میں بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لے کر ملک و قوم کا نام روشن کریں گے۔

آغا رفیق نے کراچی میں قومی سطح کے اس ایونٹ کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا۔تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر سعید غنی نے باقاعدہ طور پر 54ویں قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے آغاز کا اعلان کیا۔ چیمپئن شپ میں ملک کے مختلف شہروں اور صوبوں سے آئے ہوئے کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں