اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن))نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہاہے کہ کاربن ٹیکس کی رقم کس صوبے کو کتنی مل رہی ہے، کسی کو کچھ معلوم نہیں سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ کلائمیٹ چینج کمیٹی کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں فنانس کے ایڈیشنل سیکرٹری نے اعتراف کیا کہ کاربن لیوی نہ صوبوں کو مل رہی ہے اور نہ ہی ماحولیاتی منصوبوں پر خرچ ہو رہی ہے،۔ انہوںنے کہاکہ بلوچستان میں پانی کا مسئلہ ہے جبکہ سندھ میں ریزلیئنس اسکولز موجود نہیں ہیں،کے پی میں اپنے ماحولیاتی مسائل ہیں۔
انہوںنے کہاکہ کاربن ٹیکس کی رقم کس صوبے کو کتنی مل رہی ہے، کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان2022اور 2025 میں بھی شدید اور تباہ کن سیلابوں سے دوچار رہا۔ انہوںنے کہاکہ پٹرولیم لیوی پر کاربن ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے اور وفاق بلا تعطل یہ رقم وصول کر رہا ہے، جو فیڈرل کونسولیڈیٹڈ فنڈ میں جا رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال ہے اور ایران پر دوبارہ حملے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، تمام ارکان یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں کیا پاکستان کے پاس پٹرول دستیاب ہوگا۔
شیری رحمان نے کہاکہ گزشتہ سال ایل پی جی کے پانچ کارگو آئے تھے جبکہ اس سال صرف دو کارگو آ رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ یہ انتہائی سنجیدہ معاملات ہیں، پٹرولیم منسٹر ایوان میں آ کر پٹرول اور گیس کے حوالے سے اپنی منصوبہ بندی سے آگاہ کریں








