کراچی(رپورٹنگ آن لائن) میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ شہر کے ساتوں اضلاع میں بلاامتیاز ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے اور کراچی کی مزید 140 سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔
آئندہ دو سے تین روز میں ورک آرڈرز جاری ہونے کے بعد رواں ہفتے کے اختتام تک ان منصوبوں پر کام شروع کردیا جائے گا، جن پر تقریباً 13 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سٹی کونسل میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، سٹی کونسل کی رکن مسرت نیازی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔میئر کراچی نے کہا کہ طویل عرصے بعد شہر میں ترقیاتی کاموں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔
سندھ واحد صوبہ ہے جہاں بلدیاتی نظام موجود ہے، جبکہ کراچی ایک منفرد شہر ہے جہاں میئر اور مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ٹاؤن چیئرمین عوامی مسائل کے حل کے لیے کام کررہے ہیں۔ ان کے مطابق شہر میں جاری ترقیاتی سرگرمیاں بلدیاتی نظام کے مؤثر انداز میں کام کرنے کا ثبوت ہیں۔ اختیارات اور وسائل کی کمی کا عذر پیش کرنے کے بجائے کام کرنے کی دلچسپی اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔ ہم نے پہل کرکے کام شروع کیا، جس کے بعد مختلف ٹاؤنز میں بھی ترقیاتی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا صنعتی دارالحکومت ہے اور جب موجودہ انتظامیہ نے شہر کی ذمہ داری سنبھالی تو سیوریج ٹریٹمنٹ کی سہولت نہ ہونے کے برابر تھی۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے منشور میں کراچی کے شہریوں سے سیوریج ٹریٹمنٹ کے حوالے سے کام کرنے کا وعدہ کیا تھا، جس پر عملی پیش رفت کی گئی۔ پارٹی قیادت کی حمایت سے کراچی میں پاکستان کا پہلا صنعتی پانی کی صفائی کا منصوبہ مکمل کیا گیا، جس کا افتتاح چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کیا، جبکہ مزید 65 ملین گیلن یومیہ پانی کی ٹریٹمنٹ کی سہولت کا سنگِ بنیاد بھی رکھا گیا ہے۔ کوشش ہے کہ یہ منصوبہ آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں مکمل کرلیا جائے، جس کے بعد ہارون آباد اور گٹر باغیچہ کے مقامات پر مجموعی طور پر 100 ملین گیلن یومیہ پانی کی ٹریٹمنٹ ممکن ہوسکے گی۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ صحت اور کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی بھی بلدیہ عظمیٰ کی ترجیحات میں شامل ہے۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں کشمیر روڈ پر کراچی کا پہلا اسپورٹس کمپلیکس قائم کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد طویل عرصے تک بین الاقوامی معیار کا کوئی بڑا اسپورٹس کمپلیکس تعمیر نہیں ہوسکا۔ موجودہ سٹی کونسل اور پیپلز پارٹی کی قیادت میں ضلع کیماڑی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں جدید اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کیا گیا، جس کا افتتاح بلاول بھٹو زرداری نے کیا۔ اس منصوبے سے پسماندہ علاقے کے شہریوں کو بھی جدید کھیلوں کی سہولیات میسر آئی ہیں۔میئر کراچی نے اسپنسر آئی اسپتال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی ادارے کے قیام کا فیصلہ 1938 میں کیا گیا اور 1940 میں اسے فعال کیا گیا تھا۔ اس وقت کی مقامی قیادت نے شہریوں کو آنکھوں کے امراض کے علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے یہ ادارہ قائم کیا تھا۔
1976 میں بلوچستان میں زلزلے کے موقع پر بھی اسپتال کے عملے اور ایمبولینس نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا۔انہوں نے کہا کہ بعد کے ادوار میں اسپتال کو نظرانداز کیا گیا اور 2022ـ23 تک وہاں سرجری سمیت دیگر طبی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی تھیں۔ موجودہ انتظامیہ نے اسپتال کو دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے سٹی کونسل سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبے کی منظوری حاصل کی گئی، جس میں پیپلز پارٹی کے اراکین اور اتحادیوں نے تعاون کیا۔ان کے مطابق اب اسپنسر آئی اسپتال میں روزانہ تقریباً 350 مریض او پی ڈی کی سہولت سے مستفید ہورہے ہیں۔
ان میں لیاری، صدر، بلدیہ، ماڑی پور، ملیر، کورنگی، ضلع شرقی اور وسطی سمیت کراچی کے مختلف علاقوں کے شہری شامل ہیں، جبکہ بلوچستان اور جنوبی پنجاب سے آنے والے مریض بھی یہاں علاج کرارہے ہیں۔ اسپتال میں موتیے کی سرجری اور لیزر کے ذریعے علاج کی سہولت مفت فراہم کی جارہی ہے۔ نجی اسپتالوں میں موتیے کے آپریشن پر 30 سے 35 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے، جبکہ اسپنسر آئی اسپتال میں یہ سہولت بلا معاوضہ دستیاب ہے۔ ہفتہ وار اوسطاً 60 سے 70 مریض موتیے کی سرجری اور متعلقہ سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں۔میئر کراچی نے بتایا کہ خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے بھی اسپتال کا دورہ کیا اور مریضوں سے ملاقات کی، جبکہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ بھی اس منصوبے کا افتتاح کرنے آئے۔
ان کے مطابق اسپتال کی بحالی اس بات کی مثال ہے کہ تاریخی اداروں کو دوبارہ فعال بناکر عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں۔صفائی ستھرائی کے حوالے سے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر میں تین جدید گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن قائم کیے جارہے ہیں، جن میں ایک قیوم آباد، بلوچ کالونی ایکسپریس وے، دوسرا شرافی گوٹھ اور تیسرا گٹر باغیچہ میں تعمیر کیا جارہا ہے۔ ان تینوں منصوبوں پر کام آخری مراحل میں ہے اور رواں سال کے اختتام تک انہیں فعال کرنے کا ہدف ہے۔ ان کے ذریعے کچرے کو مشینی طریقے سے جمع کرکے لینڈ فل سائٹس تک منتقل کیا جاسکے گا۔انہوں نے کہا کہ جام چاکرو لینڈ فل سائٹ کو جدید مشینی نظام کے تحت چلانے اور کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔
منصوبے کے ایک سیل کا تقریباً 20 فیصد کام مکمل ہونے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے اس کا افتتاح کیا تھا، جبکہ مکمل منصوبہ رواں سال کے اختتام یا جنوری تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ صفائی ستھرائی کے شعبے میں تقریباً 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔میئر کراچی نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1974 میں عباسی شہید اسپتال کی بنیاد رکھی تھی، تاہم بعد کے ادوار میں اس ادارے کو سیاسی مداخلت اور بدانتظامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسپتال کے نئے بلاک کی تعمیر 52 سال بعد مکمل کی گئی ہے۔ تقریباً دو لاکھ مربع فٹ رقبے پر مشتمل گراؤنڈ پلس فائیو منزلہ عمارت میں اسی ہفتے او پی ڈی سروسز فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ یہاں جلدی امراض، امراضِ قلب، خصوصی بچوں کے علاج اور عمومی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ سرفراز رفیقی شہید اسپتال میں پاکستان کا پہلا پبلک سیکٹر بریسٹ ری کنسٹرکشن سینٹر بھی قائم کیا جارہا ہے، جسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دسمبر میں فعال کرنے کا ہدف ہے۔ اس منصوبے کی قیادت بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی سرجن ڈاکٹر عمر دراز کررہے ہیں۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ کی بحالی کے بعد شہر کی دیگر تاریخی مارکیٹوں کی بحالی کا کام بھی جاری ہے۔ ان میں سول لائنز مارکیٹ، حسن علی ہوتی مارکیٹ، ڈینسو ہال، کے ایم سی بلڈنگ، لی مارکیٹ، سولجر بازار مارکیٹ اور مچھلی میانی مارکیٹ شامل ہیں۔ ان منصوبوں کو دسمبر کے اختتام تک مکمل کرکے فعال کرنے کا ہدف ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخی عمارتوں اور مارکیٹوں کو نئی نسل کے لیے شہر کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کے طور پر محفوظ کرنا ضروری ہے۔ ایمپریس مارکیٹ کو کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ ثقافتی تقریبات کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے اور دیگر بحال ہونے والی مارکیٹوں میں بھی اسی طرز پر سرگرمیاں شروع کی جائیں گی۔انفراسٹرکچر کی بہتری کے حوالے سے میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی اپنے وسائل سے بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل کررہی ہے۔ چکور نالہ ایکسپریس وے تقریباً ایک ارب روپے کی لاگت سے کے ایم سی کے اپنے فنڈز سے تعمیر کیا جارہا ہے، جس کے لیے نہ وفاقی حکومت نے فنڈز فراہم کیے اور نہ ہی صوبائی حکومت سے رقم حاصل کی گئی۔
ان کے مطابق اس منصوبے سے شہر کی بڑی آبادی کو فائدہ ہوگا اور گلستان جوہر جانے والے شہریوں کو ٹریفک کی طویل قطاروں سے نجات ملے گی۔ ناتھا خان کے مقام سے گزرنے والی اس متبادل شاہراہ کے ذریعے شہری تقریباً ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کا سفر دو سے ڈھائی منٹ میں طے کرسکیں گے۔ منصوبے کے ساتھ ایک وی جنکشن اور اضافی پل بھی تعمیر کیا جائے گا، تاکہ گلستان جوہر، پہلوان گوٹھ، حبیب یونیورسٹی اور ایئرپورٹ کی جانب جانے والے شہریوں کو الگ الگ راستے فراہم کیے جاسکیں۔ منصوبے کا بنیادی کام مکمل ہوچکا ہے اور آئندہ 30 سے 35 روز میں فنشنگ کے بعد اسے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ ناتھا خان پل کے ساتھ تین لین پر مشتمل متبادل ٹریک بھی تعمیر کیا گیا ہے تاکہ شاہراہ فیصل پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوسکے۔
انہوں نے بتایا کہ گلستان جوہر سے یونیورسٹی روڈ تک متبادل رابطہ سڑک کی تعمیر بھی جاری ہے، جس میں پہلوان گوٹھ کی جانب جانے والا تقریباً ساڑھے چار کلومیٹر کا حصہ شامل ہے۔ مجموعی طور پر تقریباً 9 کلومیٹر طویل دو رویہ شاہراہ تعمیر کی جارہی ہے، جو ملیر اور ضلع شرقی کو ملاتے ہوئے گلستان جوہر کو یونیورسٹی روڈ سے منسلک کرے گی۔ حبیب یونیورسٹی سے پی ایچ اے اپارٹمنٹس تک تقریباً ڈھائی کلومیٹر حصے کی ایک جانب بنیادی کارپیٹنگ مکمل ہوچکی ہے، جبکہ دوسری جانب کام جاری ہے۔ منصوبہ جنوری تک یونیورسٹی روڈ تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔میئر کراچی نے کہا کہ جہانگیر روڈ کی تعمیرِ نو بھی ایک اہم منصوبہ ہے، جس سے سہراب گوٹھ اور گڈاپ کی جانب سے شہر آنے والے لاکھوں شہریوں کو سہولت ملے گی۔ کے ایم سی نے اس سڑک کی عارضی مرمت کے بجائے مکمل بحالی کا فیصلہ کیا اور پہلے نکاسی آب و سیوریج کے نظام کو بہتر بناکر لیکجز ختم کیے گئے اور نئی لائنیں بچھائی گئیں۔
ان کے مطابق تقریباً ڈھائی کلومیٹر طویل سڑک کی بحالی سے پانچ کلومیٹر کا روڈ سیکشن بہتر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ منصوبے کے اگلے مرحلے میں تین ہٹی سے سہراب گوٹھ تک ایس ایم توفیق روڈ کی بحالی کا کام جاری ہے، جہاں پہلے سیوریج لائن بچھائی گئی اور اس کے بعد سڑک کی کارپیٹنگ کی جارہی ہے۔ اسی طرح گلبائی سے شیرشاہ تک سڑک کی بحالی پر تقریباً دو ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں، جس کا ایک حصہ آئندہ ایک ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف ہے۔مرتضیٰ وہاب کے مطابق ضلع کیماڑی اور ضلع غربی کو ملانے والی طوری بنگش روڈ کی تعمیر و بحالی پر بھی کام جاری ہے۔ تقریباً پانچ کلومیٹر طویل اس سڑک سے اتحاد ٹاؤن اور اتحاد کالونی سمیت مختلف علاقوں کے لاکھوں شہری مستفید ہوں گے۔ سڑک کی کارپیٹنگ جاری ہے اور اسے رواں سال کے اختتام تک مکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اسی طرح مرزا آدم خان روڈ کی بحالی سے لیاری، گارڈن، اولڈ سٹی ایریا، مچھر کالونی اور ماڑی پور کے شہریوں کو آمدورفت کے لیے بہتر متبادل راستہ فراہم ہوگا۔میئر کراچی نے بتایا کہ شہر کی مزید 140 سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ آئندہ دو سے تین روز میں ورک آرڈرز جاری ہونے کے بعد رواں ہفتے کے اختتام تک کام شروع کردیا جائے گا۔ ان رابطہ سڑکوں پر تقریباً 13 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ ان میں سے بعض سڑکیں براہِ راست کے ایم سی کی ذمہ داری میں نہیں آتیں، تاہم شہر اور شہریوں کی بہتری کے لیے ان منصوبوں کو بھی مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کراچی کی 41 اہم شاہراہوں پر اسٹریٹ لائٹنگ کا نظام بھی تبدیل کیا جارہا ہے، جس پر تقریباً ایک ارب روپے خرچ ہوں گے۔ اس منصوبے کے ورک آرڈرز جاری ہوچکے ہیں اور کام شروع کردیا گیا ہے، جبکہ آئندہ دو سے ڈھائی ماہ میں اسے مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ گارڈن نشتر روڈ پر ایک ارب روپے کی لاگت سے نیا فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا، جس کا سنگِ بنیاد 20 نومبر تک رکھنے کا منصوبہ ہے۔ کے ایم سی اپنے وسائل سے اس منصوبے پر کام کرے گی اور اسے 100 دن میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ علاقے میں ٹریفک کی روانی بہتر بنائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ عرصے میں مختصر مدت کے دوران مختلف فلائی اوورز کی تعمیر مکمل کی گئی ہے اور نشتر روڈ کا منصوبہ بھی اسی رفتار سے مکمل کیا جائے گا۔پانی کی فراہمی کے حوالے سے میئر کراچی نے بتایا کہ لیاری کے شہریوں کو پانی کی فراہمی بہتر بنانے اور پانی کی چوری روکنے کے لیے کے تھری کی 10 ملین گیلن یومیہ گنجائش کی ایلیویٹڈ لائن کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔
یہ منصوبہ مکمل کرنا ایک بڑا چیلنج تھا، تاہم تمام رکاوٹوں کے باوجود کام مکمل کیا گیا۔ آئندہ سات سے آٹھ روز میں لائن کی ٹیسٹنگ کی جائے گی، جس کے بعد اس کا باضابطہ افتتاح ہوگا۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے لیاری کے شہریوں کو پانی کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔میئر کراچی نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات شفافیت کے ساتھ شہریوں تک پہنچانے کے لیے کے ایم سی کی ویب سائٹ پر معلومات فراہم کی جارہی ہیں، تاکہ عام شہری بھی جان سکیں کہ شہر میں کہاں اور کون سے ترقیاتی کام ہورہے ہیں۔ مالی سال کے آغاز میں اعلان کیا گیا تھا کہ کے ایم سی ترقیاتی منصوبوں پر 68 سے 70 ارب روپے خرچ کرے گی اور موجودہ پیش رفت اسی عزم کا اظہار ہے۔ کوشش ہے کہ تمام منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کرکے شہریوں کو عملی ریلیف فراہم کیا جائے۔انہوں نے کراچی کے ٹاؤنز کی کارکردگی کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر کی ترقی کسی ایک میئر، وزیراعلیٰ یا وزیر بلدیات کی ذمہ داری نہیں بلکہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بلدیاتی نظام میں ٹاؤنز کو اسی مقصد کے لیے شامل کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں عوامی مسائل حل کرسکیں۔
گزشتہ دو سے تین سال کے دوران ترقیاتی کاموں اور یوٹیلیٹی اداروں کی روڈ کٹنگ کے باعث شہر کی متعدد سڑکیں متاثر ہوئیں، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اب ٹاؤنز نے بھی سڑکوں کی بحالی کے کام شروع کردیے ہیں۔ کے ایم سی ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تاکہ دونوں سطحوں کے ترقیاتی اقدامات ایک دوسرے کی معاونت کرسکیں۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر کے بعد انہیں دوبارہ کھودنے سے روکنے کے لیے کے ایم سی اور ٹاؤنز کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی اور تمام متعلقہ اداروں کو باہمی رابطے کے ذریعے اپنے کام مکمل کرنے چاہئیں۔ اسی طرح فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر غیر قانونی تجاوزات، کرسیاں، میزیں اور موٹر سائیکلیں کھڑی کرکے راستے بند کرنے کے رجحان کی بھی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ کے ایم سی اس سلسلے میں ٹاؤنز کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ شہریوں کو صاف ستھری، کشادہ اور بہتر سڑکیں اور فٹ پاتھ فراہم کیے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی ترقی کا سفر جاری رکھا جائے گا۔









