بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چینی وزارتِ خارجہ کے شعبۂ ایشیا کے ذمہ دار عہدیدار نے جاپانی وزیرِ خارجہ کی جانب سے نام نہاد “بحیرۂ جنوبی چین ثالثی فیصلے” کے اجراء کے دس سال مکمل ہونے پر دیے گئے بیان اور جاپان کی جانب سے بعض دیگر ممالک کے ساتھ مل کر نام نہاد مشترکہ بیان جاری کرنے پر چین میں جاپانی سفارت خانے کے قائم مقام سربراہ کو ہنگامی طور پر طلب کیا۔ اس موقع پر چین نے سخت احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اس اقدام پر شدید عدم اطمینان اور بھرپور مذمت کی۔
چین نے واضح کیا کہ بحیرۂ جنوبی چین کے مسئلے پر جاپان خود تاریخی ذمہ داری کا حامل ہے اور اس نے آج تک اپنی اس ذمہ داری کا مکمل حساب نہیں دیا، لہٰذا اسے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق جاپان کے یہ نامناسب بیانات اور اقدامات دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی نظام اور بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کو چیلنج کرتے ہیں،
دوہرے معیار کی عکاسی کرتے ہیں، حقائق کو مسخ کرتے ہیں، بحیرۂ جنوبی چین میں امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں اور علاقائی ممالک کے مشترکہ مفادات اور خواہشات کے منافی ہیں۔ ان اقدامات نے چین سمیت عالمی برادری میں جاپان کی جارحیت اور نوآبادیاتی مظالم کے حوالے سے تاریخی خدشات اور شدید غم و غصے کو مزید بڑھا دیا ہے۔
چین نے واضح کیا کہ وہ جاپان کی اشتعال انگیزی کا بھرپور اور مؤثر جواب دے گا اور اپنی علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق و مفادات کا ہر صورت میں دفاع کرے گا۔چین نے اس موقع پر تائیوان کے معاملے، جاپان کی جانب سے چین میں چھوڑے گئے کیمیائی ہتھیاروں، جاپانی ارکانِ پارلیمان کی جانب سے چین کی قومی پالیسیوں پر غیر ذمہ دارانہ بیانات، اور جاپان کی حالیہ فوجی و سلامتی سے متعلق منفی پیش رفتوں پر بھی سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔







