لاہور( رپورٹنگ آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ چوہدری سالک حسین نے بہت بڑا بیان دیا ہے اور یہ لمحہ فکریہ ،یہ بات کوئی عام وزیر نہیں بلکہ چوہدری شجاعت حسین کا بیٹا کہہ رہا ہے جن کا بھائی بھی پنجاب میں وزیر ہے۔
ایک انٹر ویو میں انہوںنے کہا کہ اگر وہ یہ بات کر رہے ہیں تو حکومت کو اس کا جواب دینا پڑے گا،اس سے پہلے بھی تین وزرا ء اس نوعیت کے بیانات دے چکے ہیں۔ندیم افضل چن نے کہا کہ یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے، اس لیے چائے کے کپ کے اخراجات کا بھی حساب دینا چاہیے، سرکاری جہاز تو بہت بڑی چیز ہے۔انہوں نے سالک حسین کی متعدد باتوں کو حقیقت پر مبنی قرار دیتے ہوئے بالخصوص بجٹ کی تقسیم، پسند ناپسند کی بنیاد پر ترقیاتی فنڈز کی فراہمی، صوبائی مالیاتی کمیشن کی عدم موجودگی اور مقامی حکومتوں کے غیر فعال ہونے کی نشاندہی کی۔کرپشن کے الزامات سمیت ان تمام معاملات پر صوبائی یا وفاقی حکومت کو جواب دینا چاہیے۔
سرکاری جہاز اور شاہانہ اخراجات پر بات کرتے ہوئے ندیم افضل چن نے کہا کہ سرکاری خزانہ عوام کا پیسہ ہے، جو غریبوں کے علاج، تعلیم اور بنیادی ضروریات پر خرچ ہونا چاہیے اس لیے حکمرانوں کو اخراجات کا حساب دینا پڑتا ہے اور نوآبادیاتی طرزحکمرانی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔وزرا ء کے ہاتھ پائوں باندھنے کے بیان پر انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے ہاتھ پائوں بندھے ہوئے ہیں تو اسے عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ مراعات لے کر عہدے پر بیٹھے رہنے کا کیا فائدہ؟









