حافظ نعیم الرحمن 14

پٹرول کی قیمتیں کم نہ ہوئیں تو ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ کرسکتے ہیں’ حافظ نعیم الرحمن

لاہور ( رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری واپس نہ لیا گیا تو آج بروز بدھ کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرسکتے ہیں، قوم پٹرول کے ہر لیٹر پر بھاری ٹیکس ادا کر رہی ہے ، مہنگائی کا بوجھ ناقابل برداشت ہوگیا۔

دھرنا میں خواتین و وکلا بھی شرکت کریں گے۔وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر پٹرولیم لیوی ، آئی پی پیز اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کے دھرنے کے تیسرے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی ذاتی غرض کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے۔ دھرنے کے شرکا پرعزم ہیں اور آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں، ہم مہنگائی کے خلاف عوام کی آواز بن رہے ہیں۔ نائب امیر لیاقت بلوچ ، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر جنجوعہ ، صدر لاہور بار عرفان حیات باجوہ، ڈپٹی سیکرٹریز جماعت اسلامی پاکستان اظہر اقبال حسن، رسل خان بابر، شیخ عثمان فاروق، امیر لاہور ضیاالدین انصاری اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے رات کو پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا ہے، جس سے عوام میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔ حکومت کو قیمتوں میں کمی کرنا پڑے گی، پٹرولیم لیوی ختم کرکے پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لٹر کی جائے ، غریب آدمی اب لیوی کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں لیوی کا کوئی تعلق نہیں، حکومت عوام سے زبردستی پیسے وصول کر رہی ہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں پر بھی بھاری ٹیکس عائد ہیں، ایف بی آر میں کرپشن عروج پر ہے۔ ایف بی آر کو ختم کردیا جائے تو ملکی حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔معاشی بدحالی کی ذمہ دار حکومت ہے، عوام کو مسلسل مشکلات سے دوچار کیا جارہا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے آئی پی پیز کے معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے نام پر آئی پی پیز کے ساتھ ناجائز معاہدے کیے۔ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے خلاف دھرنا دیا تو حکومت کو جھکنے پر مجبور کیا گیا۔

حکومت نے 27 میں سے پانچ آئی پی پیز کو بند کیا اور خود کہا کہ اس اقدام سے قومی خزانے کو 3٫360 ارب روپے کا فائدہ ہوا۔ اب بھی 73 آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آٹا 160 روپے کلو اور روٹی 25 روپے کی ہوچکی ہے جبکہ کسان بھی مہنگائی سے پریشان ہیں۔ ڈی اے پی اور یوریا کھاد کسان کی پہنچ سے دور ہوچکی ہیں۔ حکومت نے عوام کو معیاری تعلیم سے محروم کردیا ہے، پرائیویٹ سیکٹر بھی مشکلات کا شکار ہے ، تعلیم، صحت اور زراعت کو تباہ کرکے رکھ دیا گیا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب میں حالات سب سے زیادہ خراب ہیں ، 11 ہزار اسکول آؤٹ سورس کر دیئے گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی بھی عوام کے ساتھ ظلم کر رہی ہے ، سندھ میں تعلیم کو تباہ کردیا ہے۔

کراچی میں قبضہ میٔر کو بٹھایا ہوا ہے۔انہوں نے ملک کے بڑھتے ہوئے قرضوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب پی ڈی ایم اقتدار میں آئی تو ملکی قرضہ 45 ہزار ارب روپے تھا، جو اب 95 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ پی ڈی ایم کرپشن اور نااہلی کا ٹولہ ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے تین مقامات پر جاری ہیں، ہمیں اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں چاہیے، عوام کو سہولت دی جائے۔ ملک بھر کے لوگ حکومتی اقدامات سے پریشان ہیں ، جماعت اسلامی احتجاج کے ذریعے عوامی مسائل اجاگر کرہی ہے۔ انہوں نے سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم سمیت تمام حکومتی جماعتیں فارم 47 کی پیداوار ہیں۔ عوام کو سندھی اور مہاجر کی بنیاد پر نہ لڑایا جائے۔ جماعت اسلامی انتظامی یونٹس کے خلاف نہیں، آئین کو بالاتر سمجھا جانا چاہیے۔ ماضی میں جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی مرحوم ڈاکٹر وسیم اختر نے بہاولپور جنوبی پنجاب کے حوالے سے پنجاب اسمبلی سے قرارداد بھی منظور کرائی تھی ۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئین کے مطابق بااختیار مقامی حکومتیں قائم کی جائیں۔ 2015 سے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے ، بلوچستان میں آج تک بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے۔ دھرنوں کے دباؤ کے باعث سندھ میں 2023 میں بلدیاتی انتخابات ہوئے۔انہوں نے کہا کہ حکومتیں کرنے کے کام نہیں کرتیں اور آئین کی مسلسل پامالی کی جاتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی تین جماعتیں پسندیدہ ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے حکمرانوں کے پروٹوکول پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے کراچی کے دورے کے دوران 67 گاڑیوں کا پروٹوکول تھا جبکہ صدر آصف علی زرداری نماز پڑھنے کے لیے بھی ایسے پروٹوکول کے ساتھ گئے۔

دریں اثنا پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کا وزیراعلیٰ ہاؤس لاہور کے باہر دھرنا تیسرے روز بھی جاری ہے۔ لاہور بار ایسوسی ایشن نے بھی دھرنے کی حمایت کا اعلان کردیا۔ صدر لاہور بار ایسوسی ایشن عرفان حیات باجوہ نے دھرنے میں شرکت اور خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ حافظ نعیم الرحمن نے عوام کو شعور دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وکلا برادری بھی جماعت اسلامی کے دھرنے میں شریک ہوگی۔لاہور کے علاوہ کراچی اور پشاور میں بھی گورنر ہاؤسز کے باہر جماعت اسلامی کے دھرنے جاری ہیں جہاں شدید گرمی کے باوجود ہزاروں افراد احتجاج میں شریک ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں