طلال چودھری 5

پاکستان کا امن اور عوام کی سلامتی اولین ترجیح ہونی چاہیے،طلال چوہدری

مکو آ نہ (رپورٹنگ آن لائن)وزیر مملکت برائے امور داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اختلافات سے بالاتر ہو کر ریاست اور سکیورٹی فورسز کا ساتھ دیں کیونکہ پاکستان کا امن اور عوام کا تحفظ سیاسی مفادات سے زیادہ اہم ہے۔ جڑانوالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست اپنی جگہ اہم ہے، تاہم پاکستان کا امن اور عوام کی سلامتی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔دہشت گردی کی ہر شکل کی بلاامتیاز مذمت کی جانی چاہیے، خواہ اس میں کوئی بھی گروہ ملوث ہو یا اس کے سیاسی اثرات کچھ بھی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے سیاسی جماعتوں، سکیورٹی فورسز، سرکاری اداروں اور عام شہریوں سب کو نقصان پہنچا ہے۔دہشت گردوں نے جنازوں اور شادی کی تقریبات کو بھی نشانہ بنایا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) یا کسی دوسرے عسکریت پسند گروہ سے تعلق رکھنے والے عناصر دہشت گرد ہی ہیں۔طلال چوہدری نے افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری ریاست اور قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ 11 برس کے دوران مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے کسی قومی یا صوبائی رہنما کو دہشت گردی کا نشانہ کیوں نہیں بنایا گیا، جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن ایسے واقعات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے پی ٹی آئی کے حق میں جاری کیے گئے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ اس تنظیم نے کسی دوسری سیاسی جماعت کے حق میں ایسا بیان کیوں جاری نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت طویل عرصے سے ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کے درمیان بعض مشترکہ مفادات کے ممکنہ وجود کی نشاندہی کرتی رہی ہے، تاہم اس معاملے کا جائزہ شواہد، قانون اور متعلقہ ریاستی اداروں کی تحقیقات کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کی حمایت یا انہیں سہولت فراہم کرنے میں ملوث پائے جانے والے کسی بھی شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ایسی کارروائی کا تعین متعلقہ ریاستی ادارے اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کریں گے۔وزیر مملکت نے کہا کہ وفاقی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر تعاون کے لیے خیبرپختونخوا حکومت سے متعدد بار رابطہ کیا، تاہم اب تک قابلِ عمل لائحہ عمل سامنے نہیں آ سکا۔

ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے مذاکرات کی دعوت پر وفاقی نمائندوں نے ان کی رہائش گاہ، دفتر یا کے پی ہاؤس میں ملاقاتوں کے لیے آمادگی ظاہر کی، لیکن دہشت گردی کے خلاف مؤثر تعاون کا عملی نظام تشکیل نہیں پا سکا۔انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کا مقصد سیاسی محاذ آرائی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن کی بحالی ہے۔صوبے میں مسلسل بدامنی کے باعث عام شہری مشکلات کا شکار ہیں جبکہ خوف اور عدم استحکام کاروبار، روزگار، سرمایہ کاری اور معمول کی معاشی سرگرمیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کے بغیر کوئی بھی صوبہ پائیدار ترقی اور معاشی خوشحالی حاصل نہیں کر سکتا۔خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا متبادل انتظامی انتظامات سے متعلق سوال پر طلال چوہدری نے کہا کہ مقصد حکومت بنانا یا گرانا نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات اور امن کی بحالی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں