طارق فضل چودھری 14

پاکستان سندھ طاس معاہدے اورثالثی عدالت کے فیسلے کے بعد اپنا حق نہیں چھوڑے گا،،طارق فضل چوہدری

اسلام آباد /کراچی(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ مستقل ثالثی عدالت کا سندھ طاس معاہدے کا فیصلہ پاکستان کے اصولی موقف کی بھرپور تائید اور پاکستان کی فتح ہے،پاکستان کسی بھی صورت سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حق سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ۔

ریاست اور قوم نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میںبے مثال قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔حکومت سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون اور موثر رابطے کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔عوامی فلاح اورمعاشی ترقی کے منصوبوں کوآگے بڑھایا جارہا ہے ۔دہشتگردی کیخلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی موثر حکمت عملی قابل تحسین ہے ۔ان الفاظ کا اعادہ انہوں نے ملک بھر کے علماء و مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان اور قومی امن رابطہ کونسل پاکستان کے سربراہ سفیر امن پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی سجادہ نشیں آستانہ عالیہ بھیج پیر جٹا سے ملاقات کے دوران کیا۔

ملاقات میں موجودہ ملکی سیاسی و سماجی صورتحال، امن و امان، قومی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات، سندھ بالخصوص کراچی کی صورتحال، پمز کے حالیہ واقعے، نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام، آزاد کشمیر کی صورتحال، علاقائی اور بین الاقوامی حالات سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندکی ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف سیکیورٹی ادارے بھرپور کارروائیاں کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی قربانیاں قابل تحسین ہیں۔ قوم اپنے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔27ستمبر کا احتجاج سیاسی بے چینی پیدا کرنے کی کوشش ہے ،ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال مردہ سیاست کو زندہ کرنے کی کوشش ہے۔

پاکستان میں اب انتشار اور تصادم کی سیاست کی کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی اشاروں پر چلنے والے انتشار پسند عناصر کی منفی سیاست کو ملک کے 22 کروڑ عوام مسترد کرچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام، معاشی ترقی، امن اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن اختلاف کو انتشار، تشدد اور ریاستی اداروں کے خلاف محاذ آرائی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جو عناصر ملک میں بے چینی اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں انہیں عوامی مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔ پاکستان کے عوام نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ ملک میں امن، ترقی اور جمہوری استحکام چاہتے ہیں۔پمز کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لانے کا عمل مکمل کیا جارہا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اس کی سفارشات کی روشنی میں قانون کے مطابق عملدرآمد کیا جائے گا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو محفوظ اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور کسی بھی غفلت یا کوتاہی کی صورت میں ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔ملاقات میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کو سراہا گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور کسی بھی تنازع کو جنگ میں تبدیل ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔ بین الاقوامی حالات درست سمت میں جائیں اور خصوصاً ایران امریکا جنگ کے بادل خطے پر نہ برسیں، اس کے لیے سفارتی کوششوں کو جاری رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں، مذاکرات اور سفارت کاری ہی پائیدار امن کا راستہ ہیں۔ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق سوال پر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر مستقبل میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو یہ عمل آئین اور قانون کے مطابق ہوگا۔ فی الحال اس معاملے پر کوئی حتمی بات کرنا قبل از وقت ہے کیونکہ اس نوعیت کے فیصلے کے لیے ملک کی تمام اکائیوں اور متعلقہ فریقین کا ایک پیج پر آنا ضروری ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس معاملے پر سیاست کرنا چاہتے ہیں وہ اپنی سیاسی رائے دینے میں آزاد ہیں، تاہم قومی نوعیت کے معاملات پر فیصلے جذبات یا سیاسی مفادات کے بجائے آئینی، قانونی اور جمہوری طریقہ کار کے تحت کیے جائیں گے۔طارق فضل چوہدری نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ (ن) اور قائد پاکستان محمد نواز شریف پر بھرپور اعتماد کرتے ہوئے حکومت کی باگ ڈور مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ میں دی ہے۔ ان شاء اللہ آزاد کشمیر میں بھی پنجاب کی طرح ترقی کا دور دورہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو بہتر بنیادی سہولیات، روزگار، تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں کی فراہمی کے لیے حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔ملاقات میں سندھ خصوصاً کراچی کے امن و امان، شہری مسائل، روزگار، پانی، بجلی، صحت، تعلیم، سیوریج اور دیگر بنیادی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔قومی امن رابطہ کونسل پاکستان کے سربراہ سفیر امن پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس کے امن، ترقی اور بنیادی شہری مسائل کا حل قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ کراچی کے نوجوانوں کو میرٹ، شفافیت اور مساوی مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں تاکہ وہ ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ علماء و مشائخ، سماجی حلقے اور قومی امن رابطہ کونسل پاکستان ملک میں امن، اتحاد، بین المسالک ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔

ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دہشت گردی، انتہاپسندی، بدامنی اور ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف قومی اتحاد مزید مضبوط کیا جائے گا، جبکہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری، امن، جمہوری استحکام اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی و جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ اس موقع پر سفیر امن پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی نیوفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو قومی ،سماجی سیاسی اور پارلیمانی امور کے حوالے سے قومی امن رابطہ کونسل کی جانب سے “عزم و استقلال ایوارڈ”بھی پیش کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں