منعم ظفر 10

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی کوششیں جاری ہیں، منعم ظفرخان

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے کہا ہے کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو مزید ایک دن بھی عہدے پر نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ شہر میں صفائی، سیوریج، ٹوٹی سڑکوں اور بنیادی شہری سہولتوں کے مسائل برقرار ہیں، جبکہ شہری انفرااسٹرکچر کی تباہ حالی نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔خصوصی گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے مرتضیٰ وہاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے مختلف اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کیے ہیں، جن میں مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام اور پاکستان تحریک انصاف شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے ارکان اس وقت تحریک عدم اعتماد کی حمایت کرتے تو صورت حال مختلف ہوسکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل سمیت چند اہم سڑکوں کو چھوڑ کر شہر کے بیشتر علاقوں میں انفرااسٹرکچر خستہ حالی کا شکار ہے، ترقیاتی منصوبے مطلوبہ رفتار سے مکمل نہیں ہورہے اور شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔منعم ظفر نے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے میں تاخیر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 26 کلومیٹر طویل منصوبہ ساڑھے پانچ سال سے زیر تعمیر ہے، جبکہ کے فور منصوبہ بھی تاخیر کا شکار ہے۔ ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2003 میں شروع ہوا تھا اور ڈیزائن و تکنیکی مسائل کے باعث اس کی تکمیل میں رکاوٹیں آئیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ غلط پائپ لائن بچھانے کے باعث تقریباً 16 ارب روپے کا نقصان ہوا۔جماعت اسلامی کے امیر نے گلشن اقبال ٹاؤن میں اپنی جماعت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ٹاؤن کے تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے اقدامات کیے گئے، 34 میں سے 24 پارکس کو بہتر بنایا گیا اور نوجوانوں کے لیے دو مراکز قائم کیے گئے۔انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ حافظ نعیم الرحمن کے لاہور منتقل ہونے کے بعد کراچی کے مسائل پر جماعت اسلامی کی آواز کمزور ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حافظ نعیم الرحمن بدستور کراچی کے مسائل پر توجہ دے رہے ہیں اور جماعت کی پوری ٹیم شہری مسائل کے حل کے لیے سرگرم ہے۔منعم ظفر نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور پٹرولیم لیوی کے خلاف بھی احتجاج کیا اور گورنر ہاؤس کراچی کے باہر 35 روز تک دھرنا دیا۔آئندہ میئر کراچی کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگلا میئر جماعت اسلامی کا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت آئندہ بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی، جبکہ دوسری جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد یا ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ وقت آنے پر مشاورت سے کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں