محمد جاوید قصوری 12

مزید چھ ہزار سے زائد سرکاری سکولوں کو ٹھیکے پر دینے کا فیصلہ قابلِ مذمت، فیصلے کو واپس لیا جائے’ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے پنجاب حکومت کی جانب سے مزید سرکاری سکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت تعلیم جیسے بنیادی اور اہم شعبے میں اصلاحات کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں سے راہِ فرار اختیار کر رہی ہے۔

سرکاری سکولوں کو ٹھیکے پر دینا کسی صورت تعلیمی اصلاحات نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقِ تعلیم سے جڑے ایک اہم ریاستی شعبے سے دستبرداری کے مترادف ہے۔ حکومت کا یہ طرزِ عمل انتہائی تشویشناک ہے، جس کے منفی اثرات براہِ راست غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کے مستقبل پر مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے ہزاروں سرکاری سکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کی پالیسی اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمران شعبہ تعلیم کو اپنی ترجیحات میں وہ اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں جو ایک فلاحی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سرکاری سکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے بجائے ان کی انتظامی اور تدریسی حالت بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق آؤٹ سورسنگ کے چوتھے مرحلے میں 6 ہزار 460 سرکاری سکول نجی شعبے کے حوالے کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جن میں 5 ہزار 860 پرائمری و مڈل سکول جبکہ 600 ہائی سکول شامل ہیں۔ اس سے قبل تین مراحل میں 13 ہزار 600 سکولوں کی آؤٹ سورسنگ کی جا چکی ہے۔

دیہی علاقوں میں سرکاری ہائی سکولوں کو نجی انتظام میں دینے سے بالخصوص طالبات کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سرکاری سکولوں کو ٹھیکے پر دینے کے بجائے ان میں موجود خامیوں کو دور کیا جانا چاہیے۔ سکولوں میں اساتذہ کی خالی آسامیاں پُر کی جائیں، غیر ضروری انتظامی رکاوٹیں ختم کی جائیں، تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا جائے، جدید سائنسی و تکنیکی سہولیات فراہم کی جائیں اور اساتذہ کو باعزت روزگار اور بہتر تدریسی ماحول دیا جائے۔ اگر کسی سکول میں طلبہ کی تعداد کم ہے تو اسے بند کرنے کے بجائے وہاں تعلیمی سہولیات اور معیار بہتر بنا کر داخلوں میں اضافہ کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے بھی عوامی حقوق، تعلیم کی فراہمی اور ریاستی ذمہ داریوں کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔ جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور ریاست اس ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ حکومت کو تعلیم کو کاروباری سرگرمی بنانے کے بجائے قومی ترقی اور معاشرتی بہتری کا بنیادی ذریعہ سمجھنا ہوگا۔ پنجاب حکومت فوری طور پر سکولوں کی آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ واپس لے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں