عدالت 13

لاہور ہائیکورٹ نے فیملی اسسٹنس پیکیج سے متعلق اپیل مسترد کر دی

لاہور(رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے فیملی اسسٹنس پیکج سے متعلق ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے دوبارہ شادی کرنے والے شوہر کو مرحوم سرکاری ملازمہ کی تنخواہ فیملی اسسٹنس پیکج کے تحت جاری رکھنے کی استدعا مسترد کر دی ،عدالت نے سنگل بینچ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے انٹرا کورٹ اپیل خارج کر دی۔

دو رکنی بینچ، جسٹس چوہدری محمد اقبال اور جسٹس عاصم حفیظ پر مشتمل تھا، نے غلام مرتضی کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ فیملی اسسٹنس پیکج کا مقصد صرف مرحوم سرکاری ملازم کے متاثرہ خاندان کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ اچانک کفیل کے انتقال کے بعد خاندان کو درپیش معاشی مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔عدالت نے واضح کیا کہ اگر مرحوم ملازم یا ملازمہ کا شریکِ حیات دوبارہ شادی کر لے تو اس سے خاندانی ڈھانچہ تبدیل ہو جاتا ہے لہٰذا فیملی اسسٹنس پیکج کے تحت ملنے والی مالی سہولت برقرار رکھنے کا قانونی جواز باقی نہیں رہتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ دوبارہ شادی کے بعد فیملی اسسٹنس پیکج کے تحت تنخواہ اور پنشن جیسے مالی فوائد بیک وقت یا مسلسل جاری رکھنے کا کوئی قانونی حق موجود نہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ایسی صورت میں متعلقہ شخص اس خصوصی سرکاری مالی سہولت کا مستحق نہیں رہتا۔دو رکنی بینچ نے قرار دیا کہ سنگل بینچ کا فیصلہ قانون اور قواعد کے مطابق تھا، اس میں مداخلت کی کوئی وجہ موجود نہیں۔ چنانچہ غلام مرتضی کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کرتے ہوئے سنگل بینچ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں اس امر پر بھی زور دیا کہ فیملی اسسٹنس پیکج ایک فلاحی اسکیم ہے جس کا بنیادی مقصد مرحوم ملازم کے حقیقی متاثرہ خاندان کی عارضی مالی معاونت ہے، نہ کہ ایسی مستقل مالی سہولت فراہم کرنا جو حالات تبدیل ہونے کے باوجود جاری رکھی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں