لاہور(زاہد انجم سے)میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خالد بن اسلم نے بتایا ہے کہ لاہور جنرل ہسپتال سے نومولود اہل خانہ کی غفلت سے اغوا ہواہے،پیدائش کے فوراً بعد بچے کو ہسپتا ل کے ایس او پیز کے مطابق والد کے حوالے کر کے دستخط لے لیے گئے تھے جبکہ نوسر باز خاتون عمران کی عزیزہ نائلہ زوجہ محمد وسیم کو چکما دے کر شیر خوار کو لے کر رفو چکر ہو گئی تاہم اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ہسپتال انتظامیہ نے پولیس تھانہ کوٹ لکھپت کو مغوی بچے کے والدکی مدعیت میں مقدمہ درج کروا دیا ہے اور پولیس حکام سے اپیل کی ہے کہ بچے کی بازیابی اور نوسر با ز خاتون کی فوری گرفتاری کے لئے تمام اقدامات اٹھائے جائیں۔

فوکل پرسن ایمرجنسی لاہور جنرل ہسپتال ڈاکٹر لیلیٰ شفیق نے اس حوالے سے بتایاہے کہ نازیہ بی بی زوجہ عمران کو 3 جون کوزچگی کے لئے شعبہ ایمرجنسی لایا گیا تھا جہاں آپریشن کے بعد ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہسپتال ایس او پیز کے مطابق نومولود کو والد کے دستخط کے بعد اُن کے سپرد کر دیا گیا تھا اور 4جون کی علی الصبح عمران کی عزیزہ نائلہ زوجہ محمد وسیم جس کے پاس بچہ تھا ایک نوجوان خاتون نے اسے باتوں میں لگایا اور بچے کے لئے دودھ بنانے کو کہا اور اسی اثناء میں نوسر باز خاتون بچے کو لے کر رفو چکر ہو گئی۔

ڈاکٹر لیلیٰ شفیق نے بتایا کہ پولیس تھانہ کوٹ لکھپت نے عمران کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مدعی عمران نے بتایا کہ جس رکشہ میں بچے کو اغوا کر کے لے جایا گیا اُس کا نمبر بھی مقدمے میں درج کروا رکھا ہے اور پولیس تفتیش میں اصل حقائق میں سامنے آ جائیں گے۔
پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ فیملی کو یقین دلایا ہے کہ بچے کی بازیابی اور ملزمہ کی جلد گرفتاری کے لئے پولیس کے اعلیٰ حکام سے بھی رابطہ کیا جا چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ لواحقین کو چاہیے کہ وہ ہسپتال میں نا واقف لوگوں سے زیادہ تعلق قائم نہ کریں کیونکہ اکثر اوقات چالاک اور مکار افراد مریضوں کو جھانسہ دے کر اُن کو قیمتی اشیاء اور لخت جگر سے محروم کر دیتے ہیں۔
پروفیسر الفرید ظفر نے بتایا کہ ہسپتا ل انتظامیہ نے سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کو دے دی ہے جس کی مدد سے پولیس جلد ملزمان تک پہنچ سکے گی۔






