اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ عمران خان سیاسی قیدی نہیں ،190 ملین پائونڈ کے مقدمے میں سزا یافتہ ہیں، پاکستان کو سیاسی لانگ مارچوں کے بجائے اقتصادی لانگ مارچ کی ضرورت ہے۔بدھ کو قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر بحث میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے رات گئے تک کوششیں کی جاتی رہیں لیکن دوسری جانب سے تاخیر کی گئی ہم بھی انتظار کرتے رہے کہ مذاکرات کا عمل شروع ہو لیکن دیر کر دی گئی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ 12اکتوبر کے ماورائے آئین اقدام اور 11 اکتوبر کو 1973 کے آئین کے تحت اختیار استعمال کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے،
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا اقدام کوئی خوش گوار فیصلہ نہیں بلکہ انتہائی مجبوری میں اٹھایا گیا قدم ہے، کاش دوسری جانب سے دہشت گردی کے خلاف مطلوبہ یقین دہانی کرا دی جاتی۔انہوں نے کہا کہ 2013 کے بعد خیبر پختونخوا کے پختون بھائیوں کے کندھے جنازے اٹھاتے اٹھاتے تھک گئے تھے اور روزانہ خودکش حملے ہوتے تھے۔ نواز شریف کی حکومت نے بھرپور کارروائی کے ذریعے صوبے کو دہشت گردی سے نجات دلائی اور امن بحال کیا تاہم دہشت گردوں کو واپس لا کر آباد کیا گیا، اس یقین دہانی کے ساتھ کہ وہ غیر مسلح ہو کر آئیں گے اور آئین کی پاسداری کریں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔وفاقی وزیرنے کہاکہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں شام کے بعد لوگوں کا گھروں سے نکلنا دشوار ہو گیا تھا، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر علاقوں میں سرکاری ملازمین، سکیورٹی اہلکار اور شہری دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہیجن خاندانوں کے پیارے دہشت گردی میں شہید ہوئے، ان کے دکھ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، ایسے میں جب وہ ٹیلی ویژن پر رقص و موسیقی اور سیاسی ترانے دیکھتے ہوں گے تو ان کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی؟
یہ دہشت گردی کے خلاف وابستگی کا اظہار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف شہدا کی یاد منانا اچھی بات ہے لیکن مغربی سرحدوں پر دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہونے والے سکیورٹی افسران اور جوانوں کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کیا جانا چاہیے۔وفاقی وزیر نے اپنے اوپر 2018 میں ہونے والے قاتلانہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے بیانیے کے نتیجے میں ایک نوجوان نے ان پر گولی چلائی تاہم اللہ تعالی نے انہیں نئی زندگی عطا کی، دوسری سرجری کے ذریعے سٹیل نکالے جانے کے تیسرے روز انہیں نیب کی جانب سے طلبی کا نوٹس مل گیا اور بعد ازاں گرفتار کر لیا گیا، ڈاکٹروں اور عدالت نے فزیوتھراپی کو ان کے علاج کا لازمی حصہ قرار دیا تھا لیکن ڈھائی ماہ تک انہیں یہ سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ ایک روز احتجاج پر انہیں پولی کلینک لے جایا گیا جہاں تالے لگے ہوئے تھے اور پھر واپس جیل منتقل کر دیا گیا اس کے نتیجے میں ان کا بازو مستقل طور پر ٹیڑھا رہ گیا۔وفاقی وزیرنے کہا کہ سیاسی قید اور ناانصافیوں کے باوجود انہوں نے کبھی شکایتوں کا رونا نہیں رویا، عدالت میں پیشی کے وقت ٹائی اور کوٹ پہن کر جاتے تھے۔
انہوں نے کوٹ لکھپت جیل میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شدید حبس میں رکھے جانے کے باعث ان کے کپڑوں سے پسینہ اس طرح ٹپک رہا تھا جیسے وہ شاور لے کر آئے ہوں لیکن نواز شریف یا ان کی جانب سے کبھی اس بارے میں شکایت نہیں کی گئی ، ہمارے خلاف ناانصافیاں ہوئیں تو ہم نے امریکی سینیٹ، کانگریس یا برطانوی ایوانوں میں جا کر فریاد اور منت سماجت نہیں کی بلکہ اپنی عدالتوں میں مقدمات لڑے اور سر اٹھا کر باہر نکلے، بدقسمتی سے آج پاکستان کے خلاف سب سے بڑے شکایت کنندگان پی ٹی آئی کے لوگ ہیں جو بین الاقوامی اداروں اور دنیا بھر میں ملک کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اس حکومت کے سیاسی قیدی نہیں بلکہ 190 ملین پائونڈ کے مقدمے میں سزا یافتہ ہیں، برطانیہ نے منی لانڈرنگ کے معاملے میں 190 ملین پائونڈ پاکستان کو واپس کیے جو تقریبا 60 ارب روپے بنتے تھے ، یہ رقم قومی خزانے میں جمع ہونی چاہیے تھی لیکن اسے ملک ریاض کے جرمانے کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا گیا۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ جو لوگ دوسروں کو کرپشن کے خلاف جدوجہد کا درس دیتے اور اپنے سیاسی مخالفین کو چور کہتے رہے انہیں اپنے طرز عمل کا جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے کارکنوں سے کہا کہ وہ اڈیالہ جیل جا کر اپنے لیڈر سے پوچھیں کہ انہوں نے 190 ملین پائونڈ کے معاملے میں کیا کیا، یہ معاملہ ان کے دامن پر ایک بڑا داغ ہے۔انہوں نے فنانشل ٹائمز میں شوکت خانم ہسپتال کے لیے کرکٹ میچوں کے ذریعے جمع کیے گئے عطیات کے مبینہ سیاسی استعمال سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ وہ لندن کی عدالت میں اخبار کو چیلنج کرے اور اس سے معافی منگوائے؟ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ڈیلی میل میں اپنے خلاف شائع ہونے والی خبر کو برطانوی عدالت میں چیلنج کیا اور اخبار سے معافی حاصل کی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سزا یافتہ شخص کی رہائی کا فیصلہ حکومت، پارلیمان یا اسٹیبلشمنٹ نہیں بلکہ عدالت قانون کے مطابق کر سکتی ہے، اگر کسی شخص کو اندیشہ نقص امن یا کسی سیاسی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہو تو حکومت اس معاملے میں اقدام کر سکتی ہے لیکن عدالتی سزا کی صورت میں قانونی طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔ پارلیمنٹ، پی ٹی وی اور جی ایچ کیو پر حملوں، شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی اور جناح ہاس کو نذر آتش کرنے جیسے واقعات کے حوالے سے پی ٹی آئی کا نام سامنے آتا رہا ہے پاکستان کو ہر دو سال بعد دارالحکومت پر چڑھائی اور سیاسی لانگ مارچوں کے بجائے اقتصادی لانگ مارچ کی ضرورت ہے۔ احسن اقبال نے کہاکہ ملک میں تخریب کاری اور انتشار پیدا کرنے کی کوششوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور پاکستان کو دوبارہ فساد اور انتشار کی سیاست کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ یہ 26 کروڑ پاکستانیوں بالخصوص نوجوانوں کے مستقبل کا معاملہ ہے ۔









