اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ کے پی حکومت کا دہشت گردی کے خلاف رویہ غیر سنجیدہ تھا، سہیل آفریدی نے اپنی سیاسی کو پروان چڑھانے کو ترجیح دی، ایک سیاسی جماعت کے نظریے کی وجہ سے دہشت گردی کو ہوا ملی، کیا صوبائی حکومت کا فرض نہیں ہے کہ وہ جنازوں میں جائیں؟ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ آگے بڑھنا چاہتے تھے، دوسری طرف سے بانی کی رہائی اور ان سے ملاقاتوں کا مطالبہ کیا جاتا رہا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا متحد ہو کر کام کرنا مضبوط پاکستان کے لیے ناگزیر ہے،ہمیں سیاست سے زیادہ ریاست عزیز ہے،
ایمرجنسی کے اعلان کے بعد 10 روز میں ایوان سے منظوری لازم ہے، سزا یافتہ شخص کیلئے رہائی کا سب سے اہم فورم عدالت ہے۔بدھ کو قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کے نفاذ سے متعلق صورتحال پربحث کاآغازکرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 مخصوص حالات میں غیر معمولی اقدامات کی اجازت دیتے ہیں ،صوبے میں داخلی بدامنی، سرحد پار سے دراندازی، دہشت گردی میں اضافے اور آئینی نظام کے موثر طور پر کام نہ کرنے سے متعلق موصولہ رپورٹس پر کابینہ میں غور کیا گیا جس کے بعد وزیراعظم کو صدر مملکت سے آئینی طریق کار اختیار کرنے کی سفارش کرنے کا مشورہ دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا متحد ہو کر کام کرنا مضبوط پاکستان کیلئے ناگزیر ہے، تاہم خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات کو وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی ،گورنر خیبر پختونخوا بھی طویل عرصے سے صوبے کی بگڑتی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے تھے اور انہوں نے صدر مملکت اور وزیراعظم کو خطوط کے ذریعے حالات سے آگاہ بھی کیا تھا۔
اعظم نذیر تارڑ نے دہشت گردی کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2021 سے 2024 تک خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 2,911 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ 15 اکتوبر 2025 سے 9 اکتوبر 2026 تک تقریبا ایک سال کے دوران یہ تعداد بڑھ کر 3,787 سے تجاوز کر گئی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں دہشت گردی کے واقعات کی تعداد گزشتہ تین سال کے مجموعی واقعات سے بھی زیادہ رہی جبکہ شہادتوں اور زخمیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ، افواج پاکستان، پولیس، سکیورٹی فورسز اور شہریوں نے بے پناہ قربانیاں دے کر دہشت گردی کی بڑی لہر پر قابو پایا تھا، تاہم دہشت گردی نے دوبارہ شدت اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ غیر معمولی سکیورٹی حالات میں صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری عوام کے تحفظ، متاثرہ خاندانوں کی دلجوئی، زخمیوں کی عیادت اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات اور شہادتوں کے باوجود سیاسی سرگرمیوں اور مختلف شہروں کے دوروں کو ترجیح دی گئی جبکہ حکومت کو روزانہ کی بنیاد پر اجلاس منعقد کرکے جامع ایکشن پلان مرتب کرنا اور اس پر موثر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ ریاستی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ذاتی اور سیاسی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دینا آئینی حلف کا بنیادی تقاضا ہے جب کسی صوبے میں امن و امان کی صورتحال سنگین ہو جائے اور آئینی مشینری موثر طور پر کام کرنے کے قابل نہ رہے تو آئین میں فراہم کردہ اختیارات کے استعمال پر غور کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام کسی خوش دلی سے نہیں بلکہ مفاہمت اور بہتری کی کوششوں کے باوجود حالات میں تبدیلی نہ آنے پر آخری راستے کے طور پر اختیار کیا گیا۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ہنگامی حالت کے نفاذ سے متعلق اعلان کو دس روز کے اندر توثیق کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کرنا آئینی تقاضا اور پارلیمان کا استحقاق ہے۔
انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ موجودہ اقدام کے ذریعے جمہوری حکومت کو غیر آئینی طور پر ہٹایا گیا اوربتایا کہ آئینی دفعات کے تحت کیے گئے اقدامات اور ماضی میں ان کے استعمال کی مثالوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی فیصلہ کیا گیا ،ماضی میں بھی جمہوری ادوار کے دوران ان اختیارات کو استعمال کیا گیا اور متعلقہ معاملات عدالتوں میں زیر بحث آئے۔وزیرقانون نے کہاکہ 1973 کے آئین میں ان دفعات کی شمولیت اور بعد ازاں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے ان میں کی گئی تبدیلیاں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ آئین غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے طریق کار فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اقدام بھی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے کیا گیا اور اب اس معاملے پر پارلیمان میں بحث اور ایوان کی رائے حاصل کی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر قانون نے کہاکہ سکیورٹی صورتحال کے باوجود وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی اور اسے فتح کرنے کے اعلانات کیے گئے، تاہم وفاقی حکومت نے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کو ترجیح دی۔ انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدر مملکت اور وزیراعظم کی خواہش کے احترام میں مذاکرات کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا اور مصالحتی عمل کو آگے بڑھانے میں ذاتی دلچسپی لی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ اور وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام شامل تھے جبکہ پیپلز پارٹی نے بھی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ صدر مملکت کی ہدایت پر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سید نوید قمر، شیری رحمان اور اعجاز جاکھرانی کو مذاکرات کے لیے نامزد کیا، اپوزیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ ناصر عباس کی سربراہی میں وفد نے مذاکرات میں حصہ لیا ،مذاکرات کے دوران رات گئے تک مسودوں پر تبادلہ خیال ہوتا رہا اور یکے بعد دیگرے چار مسودے تیار کیے گئے، تاہم دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات اور دیگر معاملات پر اختلافات برقرار رہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل مکالمے اور مفاہمت میں ہے اور ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے جمہوری عمل کو آگے بڑھانا چاہیے۔وفاقی وزیر نے 2023 میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابات کے انعقاد سے متعلق سیاسی مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی حکومتی اتحاد نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی تھی اس عمل کے دوران بجٹ کی منظوری، ملک میں معاشی استحکام اور دونوں فریقوں کی مشاورت سے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے ایک مجوزہ شیڈول پر اتفاق ہوا، تاہم بعد ازاں پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے طے شدہ معاملات کی توثیق نہ ہونے کے باعث پیش رفت نہ ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی حکومت نے اپنی سیاست کے بجائے ریاستی مفادات کو ترجیح دی ۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 9 مئی 2023 کے واقعات جمہوری تاریخ کا ایک افسوس ناک باب ہے اور سیاسی اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنا ہی جمہوری نظام کی اصل روح ہے۔وزیرقانون نے کہاکہ کسی گرفتار یا سزا یافتہ شخص کے معاملے میں متعلقہ قانونی طریق کار اختیار کرنا ضروری ہے رہائی یا سزا کے خلاف ریلیف کے لیے عدالت سے رجوع کرنا مناسب راستہ ہے، آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت صدر مملکت کو رحم کی اپیل پر معافی دینے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ سے ایسا مطالبہ کرنا مناسب نہیں جو اس کے قانونی اختیار میں نہ ہو۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحاد، یکجہتی اور سکیورٹی فورسز کی بھرپور حمایت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، تاہم قومی سلامتی، عوام کے تحفظ اور ریاستی مفادات کو ہر حال میں ترجیح دی جانی چاہیے۔\








