سرفراز بگٹی 25

سیکورٹی اداروں كی بروقت کارروائی،ایک کم عمرلڑکی کوبی ایل اے كے دہشت گردوں کے چنگل سے بازیاب کرالیا گیا،وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ (رپورٹنگ آن لائن)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفرازبگٹی نے کہا ہے کہ سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک کم عمر لڑکی کوبی ایل اے كے دہشت گردوں کے چنگل سے بازیاب کرا لیا جسے مبینہ طور پر خودکش حملے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی،بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف مسلسل موثر کارروائیاں کررہے ہیں۔

فتنہ الہندوستان سے منسلک دہشت گرد گروہ، خاص طور پر بی ایل اے، اپنی آپریشنل ناکامیوں کے بعد پروپیگنڈا اور غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں،کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر ایک بچی کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں تاہم انٹیلی جنس معلومات اور کارروائی سے معلوم ہوا کہ بچی لاپتہ نہیں بلکہ دہشت گرد عناصر کے قبضے میں تھی جسے اپنے کزن نے ورغلایا تھا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پیر کو وزیراعلی سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔،پریس کانفرنس کے دوران خیر النساء کو بھی پیش کردیا گیا ،اس موقع پرمشیر کھیل و ثقافت مینا مجید اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات بھی موجود تھے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں سیکورٹی فورسز کے بروقت اور موثر جوابات کی وجہ سے دہشت گردی کے کئی منصوبے ناکام بنائے گئے جس کے دوران 216 دہشت گردوں کو بے اثر کر دیا گیا،سوشل میڈیا پر ایک مربوط پروپیگنڈہ مہم بھی دیکھی گئی ہے جس میں غیر ملکی عناصر، ہندوستان سے منسلک اکائونٹس اور بعض تارکین وطن نیٹ ورکس شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیس اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ کس طرح دہشت گرد نیٹ ورک نفسیاتی ہیرا پھیری، زبردستی اور بنیاد پرستی کے ذریعے نوجوانوں، خاص طور پر خواتین کا استحصال کر رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی کے ذریعے ایک نابالغ لڑکی کو بچایا جو مبینہ طور پر اسلام آباد میں خودکش حملے کے لیے تیار کی جا رہی تھی۔ سرفراز بگٹی کے مطابق بروقت کارروائی سے نہ صرف بچی کی جان بچ گئی بلکہ وفاقی دارالحکومت میں دہشت گردی کے ایک بڑے واقعے کو بھی روک دیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بچی کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے اور اس کا والد پیشے کے اعتبار سے ٹرک ڈرائیور ہے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کم عمر بچی کو دہشت گردی کیلئے استعمال کرنے کی کوشش نہ صرف انسانیت بلکہ بلوچ روایات کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہ بلوچیت ہے اور نہ ہی آزادی کی کوئی جنگ، بلکہ معصوم بچوں کو استعمال کرنا ایک شرمناک عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ لڑکی جس کی شناخت تربت سے خیر النسا کے نام سے ہوئی ہے بحفاظت اپنے والد سے مل گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک نے متاثرہ اور اس کے خاندان کے خلاف دھمکیاں، جذباتی دبائو اور دھمکیوں کا استعمال کیا۔ سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ بھارت سے منسلک کچھ پراکسی نیٹ ورکس اور سوشل میڈیا اداکار انتہا پسندانہ بیانیے کو بڑھانے میں ملوث ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خواتین اور بچوں کا استحصال برداشت نہیں کیا جائے گا اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ہر سطح پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔

وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے لوگ پرامن ہیں اور انہیں شدت پسندانہ سرگرمیوں سے منسلک نہیں ہونا چاہیے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک بڑے ممکنہ حملے کو روکنے میں ان کے تیز اور پیشہ ورانہ ردعمل کے لیے سراہا گیا۔اس دوران وزیراعلیٰ بلوچستان نے اعلان کیا کہ بچی کو مکمل عزت و احترام کے ساتھ اس کے خاندان کے حوالے کیا جا رہا ہے،دریں اثناء کمر عمر خیر النساء نے اپنی ویڈیو بیان میں کہا کہ میرا تعلق تربت سے ہے، میرے والدین ضعیف العمر اورغریب ہیں، میرے بہن بھائی چھوٹے ہیں

،مجھے میرے کزن نے ڈرایا دھمکایاکہ آپ تنظیم بی ایل اے کے لیے کام کروورنہ تمہارے باپ کو قتل کر دوں گا اگر تم یہ کام فدائی حملہ نہیں کرو گی تو میں نے کہا ٹھیک ہے پھر میں نے ان کے لیے موبائل کارڈ بھیج دی تھی اور روٹیاں بناتی تھی مجھے نہیں پتہ کہ یہ روٹیاں کہاں لے کر جاتا تھا اور کس کے لیے لے کر جاتا تھا پھر مجھے پتہ چلا کہ یہ تنظیم بی ایل اے کے لیے جاتا ہے پھر میرے کزن نے میری آنکھیں بند کر کے دو مرتبہ پہاڑ پر لے گیا ،سر مچاروں سے ملاقات کروائی پھر سرمچاروں نے میرا ذہن ایسابنایا کہ میں تیار ہو گئی پھر میرے منگیتر کو معلوم ہوا کہ پھر اس نے مجھے منع کیا ہے کہ اپنے کزن سے دور رہو ،میرے والدین نے مجھے روکا کہ اس سے دور رہو اور بات نہیں کرو ہم غریب ہیں میرا ابو ڈرائیور ہے مجھے ڈر تھا کہ میرے ابو کو کچھ نہ دے اسی وجہ سے میں نے یہ کام کیا پھر حب چوکی آئی اپنے علاج کے لیے پھر کزن نے مجھے فون کیا تو میں نے بتایا کہ میں کان کے علاج کے لیے آئی ہوں ،پھر کزن نے مجھے کہا کان کا علاج کروا پھر اپ کو اگے بھیجنا ہے میں حب چوکی پر تھی پھر کزن نے مجھے ایک موبائل نمبر دیا پھر میری سے بات ہوئی،

اس نے کہا علاج کے بعد والدین کی ہاں جائو ان کے ساتھ وقت گزارو پھر اپ کو فدائی حملے کے لیے بھیج دیں گے، پھر مجھے بتا مجھے پتہ چلا کہ میرا کزن پکڑا گیا ہے جب میرا کزن پکڑا گیا تو میں نے خوف سے اپنا موبائل توڑ دیا میں پھر سمجھ گئی کہ میرا کزن پکڑا گیا تو میں بھی پکڑی جائوں گی مجھے پولیس نے حساس حراست میں لیا اور مجھے محفوظ مقام اور عزت کے ساتھ رکھا پھر میں نے بھی پولیس والوں کو ان کے باقی بندوں کے نام بھی بتادیئے کیونکہ میں یہ کام فدائی حملہ نہیں کرنا چاہتی تھی مجھے بلیک میل کیا گیا

،مجھے ڈرایا گیا زہن سازی کی گئی،میں بالکل بھی یہ کام نہیں کرنا چاہتی تھی اور باقی میری بہنوں سے گزارش ہے کہ تنظیم کا ساتھ نہ دے مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے مجھے پینٹنگ کا بہت شوق تھا شوق میں سیکنڈ ایئر کی طالبہ ہوں اور میری کلاسز چل رہی تھی میری یہ خواہش ہے کہ میں ڈاکٹر یاا ستانی بن کر اپنی ماں کا نام روشن کروں۔ بس میں پڑھنا چاہتی ہوں اوراگے بڑھنا چاہتی ہوں ،،ایک اچھا انسان بننا چاہتی ہوں یہ کام نہیں کرنا چاہیے یہ کام غلطی ہیں میں اس عمل سے پولیس کی راست پر پہنچ چکی ہوںاب لوگ بھی اس عمل سے گریز کریں تواس کام سے اپنے اپ کو محفوظ رکھیں یہ کام اچھا نہیں ہے ، شکر ہے میں فدائی حملہ کرنے سے بچ گئی ، میرا ذہن ایسے تیار کیا گیا تھا کہ میں فدائی حملہ کرنے پر مجبور تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں